Book - حدیث 2332

كِتَابُ الصَّیامِ بَابٌ إِذَا رُئِيَ الْهِلَالُ فِي بَلَدٍ قَبْلَ الْآخَرِينَ بِلَيْلَةٍ صحیح حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، أَخْبَرَنِي كُرَيْبٌ، أَنَّ أُمَّ الْفَضْلِ ابْنَةَ الْحَارِثِ بَعَثَتْهُ إِلَى مُعَاوِيَةَ بِالشَّامِ، قَالَ: فَقَدِمْتُ الشَّامَ، فَقَضَيْتُ حَاجَتَهَا، فَاسْتَهَلَّ رَمَضَانُ، وَأَنَا بِالشَّامِ، فَرَأَيْنَا الْهِلَالَ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ قَدِمْتُ الْمَدِينَةَ فِي آخِرِ الشَّهْرَ، فَسَأَلَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، ثُمَّ ذَكَرَ الْهِلَالَ، فَقَالَ: مَتَى رَأَيْتُمُ الْهِلَالَ؟ قُلْتُ: رَأَيْتُهُ لَيْلَةَ الْجُمُعَةِ، قَالَ: أَنْتَ رَأَيْتَهُ قُلْتُ: نَعَمْ وَرَآهُ النَّاسُ وَصَامُوا وَصَامَ مُعَاوِيَةُ قَالَ لَكِنَّا رَأَيْنَاهُ لَيْلَةَ السَّبْتِ، فَلَا نَزَالُ نَصُومُهُ، حَتَّى نُكْمِلَ الثَّلَاثِينَ، أَوْ نَرَاهُ، فَقُلْتُ: أَفَلَا تَكْتَفِي بِرُؤْيَةِ مُعَاوِيَةَ وَصِيَامِهِ؟ قَالَ: لَا، هَكَذَا أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ترجمہ Book - حدیث 2332

کتاب: روزوں کے احکام و مسائل باب: چاند جب ایک شہر ( علاقے ) میں دوسروں سے ایک رات پہلے نظر آ جائے جناب کریب کہتے ہیں کہ ( سیدنا ابن عباس ؓ کی والدہ ) ام الفضل بنت حارث ؓا نے مجھے شام میں سیدنا معاویہ ؓ کے پاس بھیجا ۔ چنانچہ میں شام آیا اور وہاں ان کا کام مکمل کیا ، اور رمضان کا چاند نظر آ گیا جبکہ میں ابھی شام ہی میں تھا ۔ ہم نے جمعہ کی رات کو چاند دیکھا ۔ پھر مہینے کے آخر میں ، میں مدینے واپس پہنچا تو سیدنا ابن عباس ؓ نے مجھ سے حال احوال پوچھے اور چاند کا ذکر کیا کہ تم نے اسے کب دیکھا تھا ؟ میں نے کہا : میں نے اسے جمعہ کی رات کو دیکھا تھا ؟ انہوں نے کہا : کیا تم نے خود دیکھا تھا ؟ میں نے کہا : ہاں ، اور دوسرے لوگوں نے بھی دیکھا تھا اور پھر سب نے روزے رکھے اور معاویہ ؓ نے بھی روزہ رکھا ۔ انہوں نے کہا : مگر ہم نے اسے ہفتے کی رات کو دیکھا تھا اور ہم روزے رکھیں گے اور پورے تیس کریں گے ( اپنی رؤیت کے مطابق ) یا چاند دیکھ لیں ۔ میں نے کہا : کیا آپ معاویہ ؓ کے چاند دیکھنے اور روزے رکھنے پر کفایت نہیں کریں گے ؟ انہوں نے کہا : نہیں ، رسول اللہ ﷺ نے ہمیں ایسے ہی حکم دیا ہے ۔ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کا مقصد یہ ہے کہ ہر علاقے والوں کے لیے ان کی اپنی رؤیت کا اعتبار ہے۔ امام شافعی رحمة اللہ علیہ اس میں مزید یوں فرماتے ہیں کہ اگر مختلف علاقوں کا مطلع ایک ہو تو ایک دوسرے کی رؤیت ان کے لیے معتبر ہو گی ورنہ نہیں۔ امام ابن تیمیہ رحمة اللہ علیہ کا بھی یہی مذہب ہے۔