Book - حدیث 2309

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابُ الْمَبْتُوتَةِ لَا يَرْجِعُ إِلَيْهَا زَوْجُهَا حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنِ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ -يَعْنِي: ثَلَاثًا-، فَتَزَوَّجَتْ زَوْجًا غَيْرَهُ، فَدَخَلَ بِهَا، ثُمَّ طَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يُوَاقِعَهَا, أَتَحِلُّ لِزَوْجِهَا الْأَوَّلِ ؟قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا تَحِلُّ لِلْأَوَّلِ، حَتَّى تَذُوقَ عُسَيْلَةَ الْآخَرِ، وَيَذُوقَ عُسَيْلَتَهَا.

ترجمہ Book - حدیث 2309

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل باب: تین طلاق والی سے اس کا پہلا خاوند دوبارہ نکاح نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ عورت کسی اور سے نکاح نہ کرے ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ سے پوچھا گیا کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی یعنی تین طلاقیں ۔ پھر اس عورت نے کسی اور شخص سے نکاح کر لیا ، وہ اس پر داخل ہوا مگر مباشرت سے قبل ہی اس کو طلاق دے دی ، تو کیا یہ پہلے شوہر کے لیے حلال ہے ؟ کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” یہ عورت پہلے کے لیے حلال نہیں حتیٰ کہ ( عورت ) کسی دوسرے ( مرد ) کی مٹھاس چکھ لے اور وہ مرد اس ( عورت ) کی مٹھاس چکھ لے ۔ “ 1 ؛ سورۃ البقرہ میں آیت 224 اور مابعد میں طلاق کے احکام بیان ہوئے ہیں ۔آیت 230 میں ہے کہ پھراگر (تیسری بار )طلاق دی تو اب وہ اس کے لئے حلال نہیں ہے جب تک کسی اور خاوند سے نکاح نہ کرلے پھراگر وہ طلاق دے دے توان دونوں پر کوئی گناہ نہیں کہ پھر باہم مل جائیں بشرطیکہ انہیں یقین ہو وہ دونوں اللہ کی حدود کو قائم رکھیں گے ۔ 3 : یہ روایت بعض محقیقن کے نزدیک صحیح ہے اس لئے اس میں بیان کردہ بات صحیح روایات میں بھی بیان ہوئی ہے اس سے معلوم ہواکہ دوسری جگہ محض نکاح کر لینا ہی کافی نہیں ہے بلکہ دوسرے خاوند سے اس کا زن وشوہر والا تعلق قائم ہونا بھی ضروری ہے ۔ اگر اس تعلق زوجیت کے بغیر ہی دوسراخاوند طلاق دے دے تو یہ عورت اپنے پہلے خاوند کے لئے حلال نہیں ہوگی اسی طرح جو لوگ چند روز اس کے لئے نیت سے نکاح کرتے ہیں تاکہ وہ عورت پہلے خاوند کے لئے حلال ہو جائے تو یہ مشروط نکاح ،نکاح نہیں بلکہ بدکاری ہے ۔ بنا بریں حلالہ کے نام سے محض رسمی عقد کر لینا اور اسی عارضی طور پر عورت کو کسی مرد کےحوالے کر دینا تا کہ عورت پہلے شوہر کے لئے حلال ہو جائے ،حرام ہے ،ایسانکاح صحیح ہے نہ رجوع ۔ اس غرض سے نکاح کرنے والے کے لئے ایک بہت بڑی مثال دی گئی ہے کہ ایسا تو گویا مانگے کا سانڈ ہے (سنن ابی ابن ماجہ‘النکاح‘حدیث نمبر1936)۔