Book - حدیث 2277

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابُ مَنْ أَحَقُّ بِالْوَلَدِ صحیح حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ وَأَبُو عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي زِيَادٌ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أُسَامَةَ أَنَّ أَبَا مَيْمُونَةَ سَلْمَى -مَوْلًى مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ، رَجُلَ صِدْقٍ-، قَالَ: بَيْنَمَا أَنَا جَالِسٌ مَعَ أَبِي هُرَيْرَةَ، جَاءَتْهُ امْرَأَةٌ فَارِسِيَّةٌ مَعَهَا ابْنٌ لَهَا، فَادَّعَيَاهُ وَقَدْ طَلَّقَهَا زَوْجُهَا، فَقَالَتْ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ! -وَرَطَنَتْ لَهُ بِالْفَارِسِيَّةِ-، زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اسْتَهِمَا عَلَيْهِ -وَرَطَنَ لَهَا بِذَلِكَ-، فَجَاءَ زَوْجُهَا، فَقَالَ: مَنْ يُحَاقُّنِي فِي وَلَدِي؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: اللَّهُمَّ إِنِّي لَا أَقُولُ هَذَا، إِلَّا أَنِّي سَمِعْتُ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -وَأَنَا قَاعِدٌ عِنْدَهُ- فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّ زَوْجِي يُرِيدُ أَنْ يَذْهَبَ بِابْنِي، وَقَدْ سَقَانِي مِنْ بِئْرِ أَبِي عِنَبَةَ، وَقَدْ نَفَعَنِي؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:َ >اسْتَهِمَا عَلَيْهِ<، فَقَالَ زَوْجُهَا: مَنْ يُحَاقُّنِي فِي وَلَدِي؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >هَذَا أَبُوكَ، وَهَذِهِ أُمُّكَ, فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ<. فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ، فَانْطَلَقَتْ بِهِ.

ترجمہ Book - حدیث 2277

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل باب: ( ماں باپ میں علیحدگی ہو جائے تو ) بچے ( کی نگہداشت اور تربیت ) کا کون زیادہ حقدار ہے؟ ابو میمونہ سلمی ، اہل مدینہ میں سے کسی کا مولیٰ تھا اور وہ سچا آدمی تھا ۔ اس کا بیان ہے کہ میں سیدنا ابوہریرہ ؓ کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ان کے پاس ایک فارسی عورت آئی ، اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا ۔ شوہر اور بیوی دونوں اس بچے کے دعویدار تھے ، اور شوہر نے عورت کو طلاق دے دی تھی ۔ عورت نے کہا : اور فارسی زبان میں بولی : اے ابوہریرہ ! میرا شوہر میرے بیٹے کو مجھ سے لے لینا چاہتا ہے ۔ ابوہریرہ ؓ نے کہا : اس پر قرعہ ڈال لو ، اور اس کو یہ فارسی میں کہا ۔ پھر اس کا شوہر آیا تو اس نے کہا : کون ہے جو مجھ سے میرا بیٹا چھینے ؟ ابوہریرہ ؓ نے کہا : «اللهم» ( یہ لفظ بطور تبرک بولا جاتا تھا ) میرا یہ کہنا اس بنا پر ہے کہ میں نے ایک عورت کو سنا تھا جو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آئی تھی اور میں بھی آپ کے پاس بیٹھا ہوا تھا ، اس نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرا شوہر میرے بچے کو لے لینا چاہتا ہے ۔ حالانکہ یہ مجھے ابوعنبہ کے کنویں سے پانی لا کے دیتا ہے اور میری خدمت کرتا ہو ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس پر قرعہ ڈال لو ۔ تو شوہر نے کہا : مجھ سے میرا بیٹا کون چھین سکتا ہے ؟ تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ” ( لڑکے ! ) یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے ، جس کا چاہے ہاتھ پکڑ لے ۔ “ چنانچہ اس نے اپنی ماں کا ہاتھ پکڑ لیا ، اور وہ اسے لے کر چل دی ۔ بچہ بچی جب خوب سمجھدارہوں تو مذکورہ بالا احوال میں انہیں اختیار دیا جاسکتا ہے۔