Book - حدیث 227

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ فِي الْجُنُبِ يُؤَخِّرُ الْغُسْلَ ضعیف حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ النَّمَرِيُّ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ مُدْرِكٍ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ابْنِ نُجَيٍّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَا تَدْخُلُ الْمَلَائِكَةُ بَيْتًا فِيهِ صُورَةٌ وَلَا كَلْبٌ وَلَا جُنُبٌ

ترجمہ Book - حدیث 227

کتاب: طہارت کے مسائل باب: جنبی غسل مؤخر کرسکتا ہے! سیدنا علی بن ابی طالب ؓ نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمايا ” جس گھر میں تصویر ، کتا اور جنبی موجود ہوں اس میں فرشتے داخل نہیں ہوتے ۔ “ اس حدیث میں ’’ملائکہ کےداخل نہ ہونےسےمراد‘‘رحمت کےفرشتےہیں۔کراماًکاتبین انسان سےجدانہیں ہوتے۔اورتصویرسےمرادبت اورروح والی اشیاء کی تصویرہےجبکہ اسےزینت کےلیےلٹکایاگیاہو۔ اگراس کی اہانت ہوتی ہوتوایک حدتک رخصت ہے۔ اورکتےسےمرادعام کتاہےنہ کہ شکاری یاحفاظت والا،کیونکہ یہ جائزہیں۔ یہ روایت شیخ البانی کےنزدیک ضعیف ہے‘اس لیےجنبی آدمی کی بابت یہ کہناصحیح نہیں کہ اس کی وجہ سےفرشتےنہیں آتے۔تاہم بشرط صحت‘اس کی توجیہ یہ ممکن ہےکہ جنبی شخص تساہل کامظاہرہ کرتےہوئےغسل نہ کرےاورنمازیں بھی ضائع کردے۔ توکسی گھرمیں ایسےجنبی کاوجودیقیناًملائکہ رحمت کےآنےمیں مانع ہوسکتاہے۔