Book - حدیث 2260

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابٌ إِذَا شَكَّ فِي الْوَلَدِ صحیح حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي خَلَفٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَال:َ جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ -مِنْ بَنِي فَزَارَةَ-، فَقَالَ: إِنَّ امْرَأَتِي جَاءَتْ بِوَلَدٍ أَسْوَدَ؟! فَقَالَ: هَلْ لَكَ مِنْ إِبِلٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: مَا أَلْوَانُهَا؟ ، قَالَ: حُمْرٌ، قَالَ: فَهَلْ فِيهَا مِنْ أَوْرَقَ؟ ، قَالَ: إِنَّ فِيهَا لَوُرْقًا، قَالَ: فَأَنَّى تُرَاهُ؟ ، قَالَ: عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ! قَالَ: وَهَذَا عَسَى أَنْ يَكُونَ نَزَعَهُ عِرْقٌ .

ترجمہ Book - حدیث 2260

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل باب: باپ جب بچے کے بارے میں شک و شبہ کا اظہار کرے تو...؟ سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ بنو فزارہ کا ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ میری بیوی نے بچے کو جنم دیا ہے جو کالے رنگ کا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا ” کیا تیرے پاس اونٹ ہیں ؟ “ کہا : ہاں ۔ آپ نے پوچھا ” ان کے رنگ کیسے ہیں ؟ “ کہا : سرخ ہیں ۔ آپ ﷺ نے پوچھا ” کیا ان میں کوئی گندم گوں ( یا سیاہی مائل ) بھی ہے ؟ “ اس نے کہا : ہاں ، ان میں سیاہی مائل بھی ہیں ۔ آپ نے فرمایا ” تیرا کیا خیال ہے وہ کہاں سے آئے ؟ “ اس نے کہا : شاید ان کو کسی رگ نے کھینچا ہو ۔ آپ نے فرمایا ” اس بچے کو بھی شاید کسی رگ نے کھینچا ہو ۔ “ 1۔محض رنگ وروپ کی بناءپر اپنے بچے سے انکار کردینا حرام ہے۔ہاںکوئی اور واضح دلیل ہو تو اور بات ہے۔مثلاًشوہر کے غائب رہنے کی صورت میں حمل اور ولادت ہو یابعد ازنکاح چھ ماہ سے کم میں ولادت ہو وغیرہ۔اس حدیث میں مذکور شخص کے متعلق بیان کیا جاتا ہے کہ اس کا نام ضمضم بن قتادہ تھا۔(کتاب الغوا مض عبد الغنی بن سعید) 2۔قاضی مفتی اور داعی حضرات کو چاہیے لہ شرعی مسائل سے حسب ضرورت واقعاتی مثالوں سے واضح فرمایا کریں۔