Book - حدیث 226

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ فِي الْجُنُبِ يُؤَخِّرُ الْغُسْلَ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرٌ.ح. وحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، قَالَا: حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ، عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ، قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, كَانَ يَغْتَسِلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ أَوْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ: >رُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَرُبَّمَا اغْتَسَلَ فِي آخِرِهِ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ! الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً! قُلْتُ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, كَانَ يُوتِرُ أَوَّلَ اللَّيْلِ أَمْ فِي آخِرِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا أَوْتَرَ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ وَرُبَّمَا أَوْتَرَ فِي آخِرِهِ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ! الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً! قُلْتُ: أَرَأَيْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ, كَانَ يَجْهَرُ بِالْقُرْآنِ أَمْ يَخْفُتُ بِهِ؟ قَالَتْ: رُبَّمَا جَهَرَ بِهِ، وَرُبَّمَا خَفَتَ، قُلْتُ: اللَّهُ أَكْبَرُ! الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي جَعَلَ فِي الْأَمْرِ سَعَةً!

ترجمہ Book - حدیث 226

کتاب: طہارت کے مسائل باب: جنبی غسل مؤخر کرسکتا ہے! جناب غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ ؓا سے کہا کہ ارشاد فرمائیے ! کیا رسول اللہ ﷺ غسل جنابت رات کے ابتدائی حصے میں کر لیتے تھے یا آخر رات میں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ بعض اوقات ابتدائے رات میں کرتے تھے اور بعض اوقات رات کے آخری حصے میں - میں نے کہا : اللہ اکبر ! حمد ہے اس اللہ کی جس نے اس معاملے میں وسعت دی ۔ میں نے عرض کیا : کیا رسول اللہ ﷺ رات کے ابتدائی حصے میں وتر پڑھ لیتے تھے یا آخر میں ؟ انہوں نے کہا کبھی رات کی ابتداء میں اور کبھی آخر میں پڑھتے تھے ۔ میں نے کہا : اللہ اکبر ! حمد ہے اس اللہ کی جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی - میں نے کہا : یہ فرمائیے : کیا رسول اللہ ﷺ قرآن مجید اونچی آواز سے پڑھتے تھے یا خاموشی سے ؟ فرمایا کہ کبھی اونچی آواز سے پڑھتے تھے اور کبھی دھیمی آواز اور خاموشی سے ۔ میں نے کہا : اللہ اکبر ! حمد ہے اس اللہ کی جس نے اس معاملے میں وسعت رکھی ۔ 1۔صالحین امت کےسوالات پرغورکیاجائےکہ ان کی بنیاداللہ کی رضا کی طلب‘اس کی قربت کاشوق اوررسول اللہﷺکی سیرت ہوتاتھا۔ 2۔غسل جنابت کومؤخرکرنامباح ہے‘مگرمستحب مؤکدیہ ہےکہ وضوکرکےسویاجائے۔ 3۔ نمازوتر کورات کےکسی بھی وقت اداکرنامباح ہے‘مگرترغیب اورترجیح یہی ہےکہ اسےرات کےآخری حصےمیں (نمازتہجدکےبعد)اداکیاجائے۔ 4۔ رسول اللہﷺاوراسی طرح صحابہ کرام کی تلاوت قرآن کاحقیقی وقت اورموقع رات میں نمازتہجدہواکرتاتھا۔ 5۔ اس قراءت میں اہل خانہ کی رعایت رکھنابہت ضروری ہےکہ زیادہ اونچی آوازسےدوسروں کوتسویش نہ ہو۔