Book - حدیث 2250

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابٌ فِي اللِّعَانِ صحیح حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْفِهْرِيِّ وَغَيْرِهِ عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ سَهْلِ... بْنِ سَعْدٍ فِي هَذَا الْخَبَرِ، قَالَ: فَطَلَّقَهَا ثَلَاثَ تَطْلِيقَاتٍ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَنْفَذَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مَا صُنِعَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُنَّةٌ، قَالَ سَهْلٌ: حَضَرْتُ هَذَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَضَتِ السُّنَّةُ -بَعْدُ- فِي الْمُتَلَاعِنَيْنِ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَهُمَا، ثُمَّ لَا يَجْتَمِعَانِ أَبَدًا.

ترجمہ Book - حدیث 2250

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل باب: لعان کے احکام و مسائل سیدنا سہیل بن سعد ؓ نے اس واقعہ میں بیان کیا کہ اس ( عویمر ؓ ) نے عورت کو رسول اللہ ﷺ کے سامنے ہی تین طلاقیں دے دیں ۔ اور رسول اللہ ﷺ نے اس کو نافذ کر دیا اور جو کچھ نبی کریم ﷺ کے ہاں کیا گیا سنت بن گیا ۔ سہل کہتے ہیں کہ میں اس واقعہ میں رسول اللہ ﷺ کے ہاں حاضر تھا ۔ چنانچہ بعد میں لعان کرنے والوں کے مابین یہی طریقہ جاری رہا کہ ان میں علیحدگی کرا دی جاتی تھی اور وہ پھر کبھی اکٹھے نہیں ہو سکتے تھے ۔ لعان کرنے والوں میں ہمیشہ کے لیے علیحدگی کس طرح ہوگی؟ نفس لعان سے یا خاوند کے طلاق دینے سے یا حاکم کی ان کے درمیان تفریق کرانے سے؟آئمہ کے درمیان اس کے درمیان اختلاف ہے ۔اور تینوں ہی مسلک آئمہ نے الگ الگ آئمہ نے اختیار کیے ہیں۔لیکن راجح مسلک پہلا ہے کیونکہ لعان کرنے کے بعد نہ خاوند کو طلاق دینے کی ضرورت رہتی ہے اور نہ حاکم کو تفریق کرانے کی۔اور یہ جو بعض روایات میں آتا ہے کہ خاوند نے لعان کے بعد تین طلاقیں دےدیں تو اس کی وجہ خاوند کا یہ سمجھنا تھا کہ جب تک میں طلاق نہیں دوں گا وہ میری ہی رہے گی۔حا لانکہ ایسا نہیں تھا لیکن اپنی سمجھ کی وجہ سے اس نے فوراً تین طلاقیں دے دیں اور بعض روایات میں جو آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے درمیان تفریق کرادی حا لانکہ ان کے درمیان تفریق کرانے کی بھی ضرورت نہیں تھی۔راوی کا یہ بیان کرنے سے مقصود بھی یہ تھاکہ اس عمل لعان کا حکم اور نتیجہ یہ ہے کہ ان کے درمیان ہمیشہ کے لیے تفریق ہوگئی۔اس توجیہ سے بیان واقعہ کی تعبیر میں جو اختلاف ہے ان کے درمیان بھی تطبیق ہوجاتی ہے۔