Book - حدیث 2238

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابٌ إِذَا أَسْلَمَ أَحَدُ الزَّوْجَيْنِ ضعیف حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ مُسْلِمًا عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ جَاءَتِ امْرَأَتُهُ مُسْلِمَةً بَعْدَهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنَّهَا قَدْ كَانَتْ أَسْلَمَتْ مَعِي، فَرُدَّهَا عَلَيَّ.

ترجمہ Book - حدیث 2238

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل باب: زوجین میں سے جب کوئی ایک مسلمان ہو جائے تو...؟ سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے دور میں ایک شخص مسلمان ہو کر آیا ۔ پھر اس کے بعد اس کی بیوی بھی مسلمان ہو کر آ گئی تو اس شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول ! یہ عورت بھی میرے ساتھ ہی مسلمان ہوئی ہے ۔ تو آپ ﷺ نے اس کو اس ( کے شوہر ) کی طرف لوٹا دیا ۔ ایام کفر وشرک کے نکاح بعد از اسلام بھی صحیح سمجھے جاتے ہیں۔تجدید کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں الا یہ کہ کسی واضح حرمت کا ارتکاب ہواہو۔مثلاً کسی محرم نسبی یا رضاعی سے نکاح کیا ہوتو فسخ ہوجائے گاورنہ نہیں۔جیسے کہ آگے تفصیل آرہی ہے۔تاہم باعتبار سند یہ روایت ضعیف ہے۔(ارواء الغلیل حدیث:1918)