Book - حدیث 2226

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابٌ فِي الْخُلْعِ صحیح حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي أَسْمَاءَ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ: رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلَاقًا، فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ, فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّةِ.

ترجمہ Book - حدیث 2226

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل باب: خلع کے احکام و مسائل سیدنا ثوبان بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جو عورت بغیر کسی وجہ کے اپنے شوہر سے طلاق مانگتی ہے اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے ۔ “ اگر زوجین میں ہم آہنگی نہ رہےاور شوہراپنی بیوی کو طلاق دینے پر راضی نہ ہو جب کہ عورت اس کے پاس رہنے کے لیے تیار نہ ہو بلکہ علیحدگی پر مصر ہوتو اپنا معاملہ قاضی کے سامنے پیش کرے۔وہ احوال واقعی کے پیش نظر عورت کے مطالبہء علیحدگی کی بناء پر عورت سے کہے کہ اپنا حق مہر واپس کرے اور پھر وہ انکے مابین عقد نکاح کو فسخ کردے۔تو علیحدگی کی اس کیفیت کو خلع کہتے ہیں ۔طلاق شوہر کی طرف سے ہوتی ہے اور خلع میں مطالبہ بیوی کی طرف سے ہوتا ہے۔اور قاضی اپنے فیصلہ تنسیخ کی تنفیذ کراتا ہے۔خلع میں عدت صرف ایک حیض ہے۔کیونکہ یہ فسخ نکاح ہے۔