Book - حدیث 2204

كِتَابُ الطَّلَاقِ بَابٌ فِي أَمْرُكِ بِيَدِكِ ضعیف حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، قَالَ: قُلْتُ: لِأَيُّوبَ: هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا قَالَ بِقَوْلِ الْحَسَنِ فِي: أَمْرُكِ بِيَدِكِ؟ قَالَ: لَا، إِلَّا شَيْئًا حَدَّثَنَاهُ قَتَادَةُ، عَنْ كَثِيرٍ- مَوْلَى ابْنِ سَمُرَةَ-، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِهِ... قَالَ أَيُّوبُ: فَقَدِمَ عَلَيْنَا كَثِيرٌ. فَسَأَلْتُهُ؟ فَقَالَ: مَا حَدَّثْتُ بِهَذَا قَطُّ، فَذَكَرْتُهُ لِقَتَادَةَ، فَقَالَ: بَلَى، وَلَكِنَّهُ نَسِيَ.

ترجمہ Book - حدیث 2204

کتاب: طلاق کے احکام و مسائل باب: شوہر اگر یوں کہے ” تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے تو ؟ “ حماد بن زید نے بیان کیا کہ میں نے ایوب سے پوچھا : آپ کو کسی کا علم ہے جو «أمرك بيدك» ” تیرا معاملہ تیرے ہاتھ میں ہے “ کی تفصیل میں حسن ( بصری ) کی طرح کہتا ہو ؟ ( ان کی بیان اگلی روایت میں آ رہا ہے ۔ ) ایوب نے کہا : نہیں مگر وہی جو ہم کو قتادہ نے بہ سند کثیر مولی ابن سمرہ سے ، ابوسلمہ سے ، انہوں نے سیدنا ابوہریرہ ؓ سے ، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اس کی مانند بیان کیا ۔ ایوب نے کہا : پھر کثیر مولی ابن سمرہ ہمارے پاس آئے تو میں نے ان سے ( اس روایت کے متعلق ) پوچھا ۔ تو انہوں نے کہا : ” میں نے یہ کبھی بیان نہیں کیا ۔ “ پھر میں نے ان کی یہ بات قتادہ سے کہی تو انہوں نے کہا کہ بیان تو کیا ہے مگر بھول گئے ہیں ۔