Book - حدیث 218

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ فِي الْجُنُبِ يَعُودُ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >طَافَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى نِسَائِهِ فِي غُسْلٍ وَاحِدٍ<. قَالَ أَبُو دَاوُد: وَهَكَذَا رَوَاهُ هِشَامُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ وَمَعْمَرٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ وَصَالِحُ بْنُ أَبِي الْأَخْضَرِ عَنِ الزُّهْرِيِّ كُلُّهُمْ، عَنْ أَنَسٍ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.

ترجمہ Book - حدیث 218

کتاب: طہارت کے مسائل باب: جنبی (اگر غسل کرنے سے پہلے) اپنی بیوی کے پاس دوبارہ آئے تو...؟ سیدنا انس ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ ایک بار اپنی ( تمام ) بیویوں کے پاس آئے اور ایک ہی غسل کیا ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ ( ایک ہی غسل کا ذکر ) دیگر اسانید سے بھی ثابت ہے ۔ یعنی : ہشام بن زید نے انس ؓ سے اور معمر نے بواسطہ قتادہ ، انس ؓ سے اور صالح بن ابی الاخضر نے بواسطہ زہری ، انس ؓ سے اور وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں ۔ 1۔ انسان اپنی بیوی کےپاس دوسری بارجاناچاہئےیادیگربیویوں کےپاس جاناچاہتاہوتواس دوران میں غسل کرناواجب نہیں ہے بلکہ صرف وضوکافی ہے‘جس کااس روایت میں بوجہ اختصارذکرنہیں ہوا۔ 2۔ نبی کامعمول تھاکہ زوجات میں باری کااہتمام فرماتےتھے‘مگربعض اوقات سفرہ وغیرہ سےواپسی پرباقاعدہ باری شروع کرنےسےپہلےایک بارسب کےپاس چلےجاتےتھےیاکوئی اوروجہ بھی ہوتی ہوگی۔ 3۔ حضرت انس کی روایت کامطابق نبیﷺکوتیس مردوں کی قوت دی گئی تھی۔(صحیح بخاری‘حدیث:268)