Book - حدیث 2150

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ مَا يُؤْمَرُ بِهِ مِنْ غَضِّ الْبَصَرِ صحیح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >لَا تُبَاشِرُ الْمَرْأَةُ الْمَرْأَةَ, لِتَنْعَتَهَا لِزَوْجِهَا، كَأَنَّمَا يَنْظُرُ إِلَيْهَا.

ترجمہ Book - حدیث 2150

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: نظر نیچی رکھنے کا حکم سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” کوئی عورت کسی دوسری عورت کے ساتھ بغل گیر ہو کر یا چمٹ کر نہ لیٹے اور پھر اپنے شوہر کو اس کے متعلق بتانے لگے گویا وہ اس کی طرف دیکھ رہا ہے ۔ “ کوئی عورت دوسری کے ساتھ لیٹے یا سوئے اور پھر اس کے احوال اپنے شوہر کو بتائے ،یا ویسے ہی کسی کی تعریفیں کرنے لگے ،منع اور ناجائز ہے ،یہ صورتیں دلوں میں شیطانی وساوس پیدا کرنے کا باعث ہوتی ہیں اور پھر فتنے اٹھتے ہیں اور یہی تعلیم شوہر کے لئے بھی ہے کہ کسی مردکی اپنی بیوی کے سامنے مبالغہ آمیز تعریف نہ کرے ۔