Book - حدیث 215

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ فِي الْإِكْسَالِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِهْرَانَ الْبَزَّازُ الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا مُبَشِّرٌ الْحَلَبِيُّ، عَنْ مُحَمَّدٍ أَبِي غَسَّانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ، أَنَّ الْفُتْيَا الَّتِي كَانُوا يَفْتُونَ- أَنَّ الْمَاءَ مِنَ الْمَاءِ-, كَانَتْ رُخْصَةً رَخَّصَهَا رَسُولُ اللَّهِ فِي بَدْءِ الْإِسْلَامِ، ثُمَّ أَمَرَ بِالِاغْتِسَالِ بَعْدُ

ترجمہ Book - حدیث 215

کتاب: طہارت کے مسائل باب: (مباشرت کےموقع پر) اگر جذبات ٹھنڈے ہوجائیں...؟ سیدنا ابی بن کعب ؓ نے بیان کیا کہ وہ فتویٰ جو لوگ دیا کرتے تھے کہ ” پانی ، پانی سے ( لازم آتا ) ہے “ ایک رخصت تھی جس کی رسول اللہ ﷺ نے ابتدائے اسلام میں اجازت دی تھی لیکن اس کے بعد غسل کا حکم ارشاد فرمایا ۔ تفصیل اس مسئلے کی یہ ہے کہ ابتدائے اسلام میں زوجین کےلیے اجازت تھی کہ مباشرت کےموقع پراگرانزال نہ ہو توغسل واجب نہیں ۔ اس کیفیت کوایک بلیغ انداز میں بیان فرمایا:’’پانی پانی سے(لازم آتا)ہے۔ ‘‘یعنی غسل کاپانی منی کاپانی نکلنےہی پرلازم آتاہے‘مگریہ حکم منسوخ ہوگیااورفرمایا:’’ختنہ ختنےسےمل جائےتوغسل واجب ہوجاتاہے۔‘‘جیسے کہ درج ذیل احادیث میں ذکرآرہاہے۔ اس لیےمذکورہ بالاالفاظ اوراحکام اب احتلام کی صورت کےساتھ مخصوص ہوگئےہیں۔یعنی اگرخواب میں کچھ دیکھاہواورجسم یاکپڑوں پرتری اوراثرنمایاں ہویاکسی اورصورت میں منی کااخراج ہوتوغسل واجب ہوگاورنہ نہیں۔ البتہ بیوی سےہم بستری کرنےکےبعد ہرصورت میں غسل واجب ہوگا۔