Book - حدیث 2136

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ فِي الْقَسْمِ بَيْنَ النِّسَاءِ صحیح حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ, وَمُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ عَبَّادٍ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ مُعَاذَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَأْذِنُنَا إِذَا كَانَ فِي يَوْمِ الْمَرْأَةِ مِنَّا بَعْدَمَا نَزَلَتْ: {تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ وَتُؤْوِي إِلَيْكَ مَنْ تَشَاءُ}[الأحزاب: 51] قَالَتْ مَعَاذَةُ: فَقُلْتُ لَهَا: مَا كُنْتِ تَقُولِينَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: كُنْتُ أَقُولُ: إِنْ كَانَ ذَلِكَ إِلَيَّ, لَمْ أُوثِرْ أَحَدًا عَلَى نَفْسِي.

ترجمہ Book - حدیث 2136

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: بیویوں کے درمیان باریوں اور تقسیم کا بیان معاذہ‘سیدہ عائشہ ؓا سے روایت کرتی ہیں ان کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ سورۃ الاحزاب کی آیت کریمہ «ترجي من تشاء منهن وتؤوي إليك من تشاء» کے نازل ہو جانے کے بعد ( بھی ) ہم میں سے جس کی باری کا دن ہوتا اس سے اجازت لیا کرتے تھے ( جب کسی دوسرے حرم میں جانے کی کوئی ضرورت ہوتی ۔ ) معاذہ کہتی ہیں میں نے سیدہ عائشہ ؓا سے دریافت کیا کہ آپ رسول اللہ ﷺ کو کیا کہا کرتی تھیں ؟ انہوں نے کہا : میں کہا کرتی تھی اگر یہ فیصلہ کرنا میرے ہی ذمے ہے تو پھر میں اپنے آپ پر کسی اور کو ترجیح نہیں دے سکتی ۔ سورۃ احزاب کی اس آیت نمبر 51 میں اللہ عزوجل نے اپنئ نبی ﷺ کو بیویوں میں باری کے مسئلے میں بصراحت رخصت عنایت فرمائی ہے مگر آپ ﷺاس رخصت کے باوجود تقسیم کی وعزیمت پر قائم رہے ۔ حضرت عائشہ رضی اللہ کا اپنے آپ کو ترجیح دینا کسی نفسانی حظ کی بنا پر نہ تھا بلکہ اس شرف خدمت کی بنا پر تھا جو ان کے قریب سے حاصل ہوتا تھا اور سب سے بڑھ کر نزول برکات اوراللہ کے ہاں رفع درجات کا سبب تھا۔