Book - حدیث 2121

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ فِي تَزْوِيجِ الصِّغَارِ صحیح حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَأَبُو كَامِلٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ: قَالَتْ: تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنَا بِنْتُ سَبْعٍ, قَالَ سُلَيْمَانُ -أَوْ سِتٍّ، وَدَخَلَ بِي وَأَنَا بِنْتُ تِسْعٍ.

ترجمہ Book - حدیث 2121

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: چھوٹی بچیوں کی شادی کر دینا ام المؤمنین سیدہ عائشہ ؓا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے شادی کی تو اس وقت میری عمر سات سال تھی ۔ سلیمان نے کہا : یا چھ سال ۔ اور مجھ سے ملاپ ہوا ( میں آپ ﷺ کے گھر بھیجی گئی ) تو میں نو سال کی تھی ۔ والد کو بالخصوص حق حاصل ہے کی کسی مصلحت کے پیش نظر چھوٹی عمر کی بچی کا نکاح کردے ،مگر صحبت ومباشرت کے لئے بلوغت کا شرط ہونا عقل ،نقل اور اخلاق کا لازمی تقاضاہے اور چھوٹی عمرکا ازواج کسی طرح بھی منافی عقل وشرع نہیں ہے ۔ اگر کسی کے مزاج پر اپنا ذوق اور علاقائی خاندانی رواج غالب ہو تو ،کیا کہا جا سکتا ہے ! ان چیزوں کو اصول شریعت نہیں بنایا جا سکتا اور پھر رسول ﷺاور ابو بکر صدیق رضی اللہ کے تعلقات شروع دن سے صدیقیت پر مبنی تھے ،نبی ﷺان کے احسانات کا بدلہ نہیں دے سکے تو ان کو اپنےاور قریب کر لیا ۔ مزید برآں یہ نکاح بطور خاص وحی منام کے نتیجے میں عمل میں آیا تھا ۔ جیسا کہ حدث میں اس کی تفصیل موجود ہے ۔ علمائے طب لکھتے ہیں کہ گر م علاقوں میں لڑکیاں نو سال کی عمر میں حائضہ ہو جاتی ہیں اور معتدل مناطق میں بارہ سال میں اور ٹھنڈے علاقوں میں سولہ سال میں بالغ ہوتی ہیں ۔ دار قطنی اور بیہقی میں عباد بن عباد سے روایت ہت کہ ہماری ایک عورت اٹھار ہ سال کی عمر میں نانی بن گئی تھی ۔ امام بخاری ؒ نے اسی طرح ایک واقعہ اکیس سال عمر کا بیان کیا ہے ۔ (ازحاشیہ بذل المجھود)