Book - حدیث 2117

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ فِيمَنْ تَزَوَّجَ وَلَمْ يُسَمِّ صَدَاقًا حَتَّى مَاتَ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ الذُّهْلِيُّ, وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى, وَعُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ, قَالَ مُحَمَّدٌ: حَدَّثَنَا أَبُو الْأَصْبَغِ الْجَزَرِيُّ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ يَحْيَى، أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ خَالِدِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ مَرْثَدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِرَجُلٍ: >أَتَرْضَى أَنْ أُزَوِّجَكَ فُلَانَةَ؟<، قَالَ: نَعَمْ، وَقَالَ لِلْمَرْأَةِ: >أَتَرْضَيْنَ أَنْ أُزَوِّجَكِ فُلَانًا؟<، قَالَتْ: نَعَمْ، فَزَوَّجَ أَحَدَهُمَا صَاحِبَهُ، فَدَخَلَ بِهَا الرَّجُلُ، وَلَمْ يَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا، وَلَمْ يُعْطِهَا شَيْئًا، وَكَانَ مِمَّنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ، وَكَانَ مَنْ شَهِدَ الْحُدَيْبِيَةَ لَهُ سَهْمٌ بِخَيْبَرَ، فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ, قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَوَّجَنِي فُلَانَةَ، وَلَمْ أَفْرِضْ لَهَا صَدَاقًا، وَلَمْ أُعْطِهَا شَيْئًا، وَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنِّي أَعْطَيْتُهَا مِنْ صَدَاقِهَا سَهْمِي بِخَيْبَرَ، فَأَخَذَتْ سَهْمًا فَبَاعَتْهُ بِمِائَةِ أَلْفٍ. قَالَ أَبو دَاود: وَزَادَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَحَدِيثُهُ أَتَمُّ فِي أَوَّلِ الْحَدِيثِ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ >خَيْرُ النِّكَاحِ أَيْسَرُهُ<. وَقَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلرَّجُلِ ثُمَّ سَاقَ مَعْنَاهُ قَالَ أَبو دَاود: يُخَافُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الْحَدِيثُ مُلْزَقًا لِأَنَّ الْأَمْرَ عَلَى غَيْرِ هَذَا.

ترجمہ Book - حدیث 2117

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: اگر کوئی نکاح کے وقت مہر مقرر نہ کرے اور پھر اس کی وفات ہو جائے تو ؟ سیدنا عقبہ بن عامر ؓ سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایک شخص سے کہا : ” کیا تم راضی ہو کہ فلاں عورت سے تمہاری شادی کر دوں ؟ اس نے کہا : جی ہاں پھر آپ نے عورت سے پوچھا ” کیا تو راضی ہے کہ فلاں مرد سے تیری شادی کر دوں ؟ “ تو اس نے کہا : جی ہاں ! چنانچہ آپ نے ان دونوں کی شادی کر دی ۔ اور پھر اس مرد نے اس سے صحبت کی مگر حق مہر مقرر نہ کیا اور نہ اسے کچھ دیا ۔ اور یہ ان لوگوں میں سے تھا جو حدیبیہ میں شریک ہو چکے تھے اور شرکائے حدیبیہ کو خیبر میں حصہ ملا تھا ۔ جب اس کی وفات کا وقت آیا تو اس نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فلاں عورت سے میری شادی کر دی تھی مگر میں نے اس کے لیے مہر مقرر نہیں کیا تھا اور نہ اسے کچھ دیا تھا ‘ اور میں تمہیں گواہ بناتا ہوں کہ میں اسے مہر میں اپنا خیبر کا حصہ دیتا ہوں ۔ چنانچہ اس عورت نے وہ حصہ لیا اور پھر اسے ایک لاکھ میں فروخت کر دیا ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ عمر بن خطاب ؓ نے ابتدائے حدیث میں اس قدر اضافہ کیا اور اس کی حدیث زیادہ کامل ہے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” بہترین نکاح وہی ہے جو زیادہ آسانی والا ہو ۔ “ اور کہا : رسول اللہ ﷺ نے اس آدمی سے کہا : ، اس کے بعد مذکورہ بالا حدیث کی مانند حدیث بیان کی ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں : اندیشہ ہے کہ حدیث ملحق ہے کیونکہ امر واقعہ اس کے خلاف ہے ۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ حق مہر مقرر نہ ہونے کی صورت میں عورت مہر مثل کی مستحق ہوتی ہے بشرطیکہ اس سے صحبت کرلی گئی جگکہ واقعہ میں اسے مہر زیادہ دیا گیا ۔ اس لئے امام صاحب اس واقعہ کے خلاف تعبیر فرمایا ۔ علاوہ ازیں روایت کا یہ ٹکڑاابو داودکے اکثر نسخوں میں نہیں ہے ۔