Book - حدیث 2102

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ فِي الْأَكْفَاءِ حسن حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ غِيَاثٍ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ أَبَا هِنْدٍ حَجَمَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْيَافُوخِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >يَا بَنِي بَيَاضَةَ! أَنْكِحُوا أَبَا هِنْدٍ، وَأَنْكِحُوا إِلَيْهِ -وَقَالَ:-، وَإِنْ كَانَ فِي شَيْءٍ مِمَّا تَدَاوُونَ بِهِ خَيْرٌ, فَالْحِجَامَةُ.

ترجمہ Book - حدیث 2102

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: ازدواج میں فریقین کے کفو ( ہم پلہ ) ہونے کا مسئلہ سیدنا ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ ابوہند نے نبی کریم ﷺ کے سر میں سینگی لگائی ۔ اور پھر آپ ﷺ نے فرمایا ” اے بنی بیاضہ ! ابوہند کا ( اپنے میں سے کسی کے ساتھ ) نکاح کر دو ۔ اور اس سے ( اس کی کسی عزیزہ کا ) نکاح لے لو ۔ “ اور فرمایا ” اگر تمہاری دواؤں میں سے کسی میں خیر ہے تو وہ سینگی لگانے ہی میں ہے ۔ “ 1 :اکثر علما ء کے بیانات میں زوجین (میاں ،بیوی )کے آپس میں کفو ( ہم پلہ )ہونے کا ذکر آیا ہے اور ان امور کو پیش نظر رکھتے ہیں ۔ دین ،آزادی ،نسب ،کسب وصناعت ،عیوب سے سلامتی اور غنا وفراخی ۔ مگر امام مالک ؒ سے منقول ہے کہ بنیادی طور پر دین واسلام میں ہم پلہ ہونا ہی معتبر ہے اور یہی بات حضرت ابن عمر اور ابن مسعود رضی اللہ اور تابعین سے محمد عبدالعزیز ؒ سے منقول ہے ۔ قرآن کریم نے بڑے واضح انداز میں فرمایا کہ ( انما المومنون اخوت )(الحجرات :10 ) مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ( وجعلنکم شعوباو قبائل لتعارفون ان اکرامکم عنداللہ اتقکم )(الحجرات :13 ) ہم نے تمہارے قبیلے اور خاندان بنائے ،تمہارے تعارف کے لئے ۔ اللہ کے ہاں تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہی ہے جو تم میں تقو میں بڑھ کر ہے بعض افراد یا خاندانوں میں کچھ خاص عادات یا خصائل معروف ہوتے ہیں وی اگر قابل قبول ہوں اور گھریلو زندگی میں اطمینان وسکنیت میں رکاوٹ کا باعث نہ ہو ں تو انہیں باہم ازدواجی تعلق کے قیام میں کسی طرح رکاوٹ نہیں بنا نا چاہیے ۔ 2 : ابو ہند (یسار رضی اللہ ) غلام تھے ۔ نبی ﷺ نے بنی بیاضہ جیسے عربی خاندان والوں کو فرمایا کہ اس کو رشتہ لے بھی لو اس واقعہ میں یہی ثابت ہواکہ اصل کفا ء ت دین کی کفاء ت ہے وین کو پس پشت ڈال کر خاندانی اونچ نیچ کی کوئی حیثیت نہیں ۔ 1 :اکثر علما ء کے بیانات میں زوجین (میاں ،بیوی )کے آپس میں کفو ( ہم پلہ )ہونے کا ذکر آیا ہے اور ان امور کو پیش نظر رکھتے ہیں ۔ دین ،آزادی ،نسب ،کسب وصناعت ،عیوب سے سلامتی اور غنا وفراخی ۔ مگر امام مالک ؒ سے منقول ہے کہ بنیادی طور پر دین واسلام میں ہم پلہ ہونا ہی معتبر ہے اور یہی بات حضرت ابن عمر اور ابن مسعود رضی اللہ اور تابعین سے محمد عبدالعزیز ؒ سے منقول ہے ۔ قرآن کریم نے بڑے واضح انداز میں فرمایا کہ ( انما المومنون اخوت )(الحجرات :10 ) مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں اور ( وجعلنکم شعوباو قبائل لتعارفون ان اکرامکم عنداللہ اتقکم )(الحجرات :13 ) ہم نے تمہارے قبیلے اور خاندان بنائے ،تمہارے تعارف کے لئے ۔ اللہ کے ہاں تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہی ہے جو تم میں تقو میں بڑھ کر ہے بعض افراد یا خاندانوں میں کچھ خاص عادات یا خصائل معروف ہوتے ہیں وی اگر قابل قبول ہوں اور گھریلو زندگی میں اطمینان وسکنیت میں رکاوٹ کا باعث نہ ہو ں تو انہیں باہم ازدواجی تعلق کے قیام میں کسی طرح رکاوٹ نہیں بنا نا چاہیے ۔ 2 : ابو ہند (یسار رضی اللہ ) غلام تھے ۔ نبی ﷺ نے بنی بیاضہ جیسے عربی خاندان والوں کو فرمایا کہ اس کو رشتہ لے بھی لو اس واقعہ میں یہی ثابت ہواکہ اصل کفا ء ت دین کی کفاء ت ہے وین کو پس پشت ڈال کر خاندانی اونچ نیچ کی کوئی حیثیت نہیں ۔