Book - حدیث 2087

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ فِي الْعَضْلِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي أَبُو عَامِرٍ، حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ رَاشِدٍ عَنِ الْحَسَنِ، حَدَّثَنِي مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ، قَالَ: كَانَتْ لِي أُخْتٌ تُخْطَبُ إِلَيَّ، فَأَتَانِي ابْنُ عَمٍّ لِي فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ، ثُمَّ طَلَّقَهَا طَلَاقًا لَهُ رَجْعَةٌ، ثُمَّ تَرَكَهَا، حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا، فَلَمَّا خُطِبَتْ إِلَيَّ أَتَانِي يَخْطُبُهَا، فَقُلْتُ: لَا وَاللَّهِ! لَا أُنْكِحُهَا أَبَدًا، قَالَ: فَفِيَّ نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ:{وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَلَا تَعْضُلُوهُنَّ أَنْ يَنْكِحْنَ أَزْوَاجَهُنَّ}[البقرة: 232] الْآيَةَ، قَالَ: فَكَفَّرْتُ، عَنْ يَمِينِي، فَأَنْكَحْتُهَا إِيَّاهُ .

ترجمہ Book - حدیث 2087

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: عورتوں کو نکاح سے منع کرنا ( کیسا ہے ؟ ) سیدنا معقل بن یسار ؓ بیان کرتے ہیں کہ میری بہن تھی ‘ مجھے اس کے سلسلے میں پیغام آتے رہے ۔ میرا چچا زاد میرے پاس آیا تو میں نے اس کا نکاح اس سے کر دیا ۔ مگر اس نے طلاق دے دی رجعی طلاق ‘ پھر اسے چھوڑے رہا حتیٰ کہ اس کی عدت ختم ہو گئی ۔ پھر دوبارہ جب مجھے اس کے نکاح کے پیغام آئے تو وہ پھر میرے پاس اس کا پیغام لے کر آ گیا ۔ میں نے کہا : قسم اﷲ کی ! میں کبھی بھی تجھ سے اس کا نکاح نہیں کروں گا ۔ بیان کرتے ہیں کہ پھر میرے ہی بارے میں یہ آیت کریمہ نازل ہوئی «وإذا طلقتم النساء فبلغن أجلهن فلا تعضلوهن أن ينكحن أزواجهن *** » ” اور جب تم عورتوں کو طلاق دو ‘ پھر دو پوری کر لیں اپنی عدت ‘ تو نہ روکو انہیں اس سے کہ نکاح کر لیں اپنے ان ہی خاوندوں سے ‘ جبکہ وہ آپس میں راضی ہوں دستور کے موافق ۔ یہ نصیحت کہ جاتی ہے اسے جو تم میں سے اﷲ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے ۔ یہ تمہارے لیے بہتر اور پاکیزہ ہے ۔ اور اﷲ جانتا ہے ‘ تم نہیں جانتے ۔ “ کہتے ہیں کہ پھر میں نے اپنی قسم کا کفارہ ادا کیا اور اس سے نکاح کر دیا ۔ 1 : اگر عورت شرع واخلاق کی حدود میں رہتے ہوئے کہیں نکاح کا عندیہ دے تو اس کی رائے کا احترام کرنا چاہیے ۔ شرع واخلاق سے باہر نکلنا تو کسی بھی اسلامی معاشرے میں قبول نہیں ہو سکتا ۔ نیز یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ ولی کے بغیر نکاح نہیں حالانکہ آیت کریمہ کے ظاہر الفاظ میں نکاح کی نسبت عورتوں کی طرف ذکر ہوئی ہے ۔ 2 : ہمارے معاشرے میں عورتیں بالعموم بعض اسباب کے تحت اپنی اس ضرورت ( نکاح ثانی ) کا اظہار نہیں کرتی ہیں اس لئے اولیا ء کے ذمے ہے کہ ان کی اس فطری اور اخلاقی ضرورت کا احساس کریں ، اس طرح عورت کو مادی ومعاشرتی تحفظ ملتاہے اور ایک شرعی فریضہ ادا ہوتا ہے ۔ تعجب ہے کہ اس نام نہاد ترقی یافتہ دور میں بہت سے مسلمان نکاح ثانی کو بہت برا سمجھتے ہیں ۔ چاہیے کہ اس سنت کا احیاء ہو جیسے کہ سید احمد شہید اور اسمعیل شہید رضی اللہ نے کیا تھا ۔ 3 : جب آدمی جذبات میں آکر کوئی غلط قسم اٹھالے تو کفارہ دے اور صحیح عمل اختیار کرے ۔