Book - حدیث 2065

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ مَا يُكْرَهُ أَنْ يُجْمَعَ بَيْنَهُنَّ مِنْ النِّسَاءِ صحیح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنْ عَامِرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم:َ >لَا تُنْكَحُ الْمَرْأَةُ عَلَى عَمَّتِهَا، وَلَا الْعَمَّةُ عَلَى بِنْتِ أَخِيهَا، وَلَا الْمَرْأَةُ عَلَى خَالَتِهَا، وَلَا الْخَالَةُ عَلَى بِنْتِ أُخْتِهَا، وَلَا تُنْكَحُ الْكُبْرَى عَلَى الصُّغْرَى، وَلَا الصُّغْرَى عَلَى الْكُبْرَى.

ترجمہ Book - حدیث 2065

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: وہ عورتیں جن کو ( ایک وقت میں ) جمع کرنا حرام ہے سیدنا ابوہریرہ ؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” نہ نکاح کی جائے کوئی عورت اس کی پھوپھی پر ۔ نہ پھوپھی اس کی بھتیجی پر ۔ اور نہ نکاح کی جائے کوئی عورت اس کی خالہ پر ۔ نہ خالہ اس کی بھانجی پر ۔ نہ نکاح کی جائے بڑی چھوٹی پر اور نہ چھوٹی بڑی پر ۔ “ ایک وقت میں پھوپھی بھتیجی یا خالہ بھانجی (یا ان کے برعکس ) کو جمع کرنا حرام ہے اور یہ حرمت موقت(عارضی ) ہے ،ابدی نہیں ۔ مختلف اوقات میں بعدازطلاق یا وفات نکاح کرلینے میں کوئی حرج نہیں اور آخری جملہ میں بڑی عورت سے مراد یا تو عمر میں بڑی ہے جو کہ عرفاماں ،خالہ اور پھوپھی وغیر ہ کا احترام پاتی ہے جبکہ چھوٹی لڑکی بیٹی کی طرح سمجھی جاتی ہے ۔ یعنی ان سے نکاح نہیں ہو سکتا ۔ یارتبے کا فرق مراد ہے ،پھوپھی اور خالہ بڑی ہوتی ہیں جب کہ بھتیجی اور بھانجی بالعموم چھوٹی ہوتی ہیں ۔ اس صورت میں یہ پہلی بات کی بہ اندازدیگر تاکید ہے ۔