Book - حدیث 2064

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ فِي الرَّضْخِ عِنْدَ الْفِصَالِ ضعیف حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ حَجَّاجٍ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مَا يُذْهِبُ عَنِّي مَذَمَّةَ الرَّضَاعَةِ؟ قَالَ: >الْغُرَّةُ: الْعَبْدُ، أَوِ الْأَمَةُ. قَالَ النُّفَيْلِيُّ: حَجَّاجُ بْنُ حَجَّاجٍ الْأَسْلَمِيُّ، وَهَذَا لَفْظُهُ.

ترجمہ Book - حدیث 2064

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: دودھ چھڑانے کے وقت انعام دینا جناب حجاج بن حجاج اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، کہتے ہیں کہ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میں دودھ پلانے کا حق کس طرح ادا کر سکتا ہوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” ایک غلام یا لونڈی ( لے کر اسے دے دے ) ۔ “ نفیلی نے کہا حجاج بن حجاج ، بنو اسلم سے تعلق رکھتا ہے اور یہ اسی کے لفظ ہیں ۔ عربوں میں یہ رواج تھا کہ اپنے بچوں کو دودھ پلانے کے لئے قرب وجوار کے دیہاتوں میں اجرت پر بھیج دیا کرتےتھے،علاوہ ازیں وہ مقررہ اجرت کے علاوہ دودہ چھڑانے پر (مرضبعہ ) دودھ پلانے والی انا کو کو ئی انعام دینا بھی پسند کرتے تھے ، اس حدیث میں اسی کا حق مرضعہ کی بابت بیان کیا گیا ہے ۔