Book - حدیث 2054

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ فِي الرَّجُلِ يُعْتِقُ أَمَتَهُ ثُمَّ يَتَزَوَّجُهَا صحیح حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ وَعَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ صُهَيْبٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْتَقَ صَفِيَّةَ، وَجَعَلَ عِتْقَهَا صَدَاقَهَا.

ترجمہ Book - حدیث 2054

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: اپنی ہی لونڈی کو آزاد کر کے اس سے نکاح کر لینے کا اجر سیدنا انس بن مالک ؓ سے منقول ہے کہ نبی کریم ﷺ نے صفیہ ؓا کو آزاد فرمایا ( اور پھر اپنے حرم میں داخل کرنے کا شرف بخشا ) اور ان کے آزاد کرنے ہی کو ان کا حق مہر ٹھہرایا ۔ حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا خیبر کے یہودی سردار حی بن اخطب کی صاحبزادی تھیں۔اورفتح خیبر کے موقع پر مسلمانوں کے ہاتھ قید ہوگئی تھی۔جب قیدی عورتیں جمع کی گیئں۔ تو حضرت وحیہ بن خلیفہ کلبی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریمﷺکی خدمت میں آکر عرض کیا۔اے اللہ کے نبی ﷺمجھے قیدی عورتوں میں سے ایک لونڈی دے دیجئے۔آپﷺ نےفرمایا جائو ایک لونڈی لے لو۔ انہوں نے جا کر حضرت صفیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو منتخب کرلیا۔اس پر ایک آدمی نے آپﷺ کے پا س آکر عرض کیا۔اے اللہ کے نبیﷺ آپ نے بنی قریظہ اور بنی نضیر کی سیدہ صفیہ کو وحیہ کے حوالے کردیا۔حالانکہ صرف وہ آپ ﷺکے شایان شان ہے۔ آپ ﷺنے فرمایا وحیہ کو صفیہ سمیت بلائو۔حضرت وحیہ ان کو ساتھ لئے ہوئے حاضر ہوئے۔ آپ ﷺنے انھیں دیکھ کر حضرت وحیہ سے فرمایا قیدیوں میں سے کوئی دوسری لونڈی لےلو۔پھر آپ ﷺنے حضرت صفیہ پرالسلام پیش کیا۔ انہوں نے اسلام قبول کرلیا اس کے بعد آپ نے انہیں آذاد کرکے آپﷺنے ان سے شادی کرلی۔ اور ان کی آذادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا۔ مدینہ و اپسی میں صد صہبا پہنچ کر وہ حیض سے پاک ہوگئیں۔اس کے بعد ام سلیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے انہیں آپﷺکےلئے آراستہ کیا۔اوررات کو آپﷺکے پاس بھیج دیا۔آپ ﷺنے دولہے کی حیثیت سے ان کے ہمراہ صُبح کی۔اور کھجور اور گھی اور ستو ملا کر ولیمہ کھلایا۔اور راستے میں تین روز شبہائے عروسی کے طور پر ان کے پاس قیام فرمایا۔اس موقع پر آپﷺنے ان کے چہرے پر ہرانشان دیکھا دریافت فرمایا یہ کیا ہے۔ کہنے لگیں۔یا رسول اللہ ﷺ آپ کے خیبرآنے سے پہلے میں نے ایک خواب دیکھا تھا کہ چاند اپنی جگہ سے ٹوٹ کر میری آغوش میں آکر گرا ہے۔ بخدا مجھے آپ ﷺکے معاملے کاکوئی تصور بھی نہ تھا۔لیکن میں نے یہ خواب اپنے شوہر سے بیان کیا۔ تو اس نے میرے چہرے پر تھپڑ رسیدکرتے ہوئےکہا یہ بادشاہ جو مدینہ میں ہے تم اس کی آرزو کررہی ہو (الرحیق المختوم)