Book - حدیث 2050

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ النَّهْيِ عَنْ تَزْوِيجِ مَنْ لَمْ يَلِدْ مِنْ النِّسَاءِ حسن صحیح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا مُسْتَلِمُ بْنُ سَعِيدٍ ابْنَ أُخْتِ مَنْصُورِ بْنِ زَاذَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ يَعْنِي ابْنَ زَاذَانَ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، عَنْ مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،: فَقَالَ: إِنِّي أَصَبْتُ امْرَأَةً ذَاتَ حَسَبٍ وَجَمَالٍ، وَإِنَّهَا لَا تَلِدُ، أَفَأَتَزَوَّجُهَا؟ قَالَ: >لَا<، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ، فَنَهَاهُ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ، فَقَالَ: >تَزَوَّجُوا الْوَدُودَ الْوَلُودَ, فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمُ الْأُمَمَ .

ترجمہ Book - حدیث 2050

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: کسی بانجھ خاتون سے شادی کرنا منع ہے سیدنا معقل بن یسار ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہا مجھے ایک عورت ملی ہے جو عمدہ حسب اور حسن و جمال والی ہے مگر اس کے اولاد نہیں ہوتی ۔ تو کیا میں اس سے شادی کر لوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” نہیں “ پھر وہ دوبارہ آیا ، تو آپ ﷺ نے منع فر دیا ۔ پھر وہ تیسری بار آیا تو آپ ﷺ نے فرمایا ” ایسی عورتوں سے شادی کرو جو بہت محبت کرنے والی اور بہت بچے جننے والی ہوں ۔ بلاشبہ میں تمہاری کثرت سے دیگر امتوں پر فخر کرنے والا ہوں ۔ “ 1۔جس عورت کے متعلق معلوم ہوجائے کہ وہ ولادت کی صلاحیت سے محروم ہے اس سے نکاح نہیں کرنا چاہیے۔کیونکہ نکاح سے اصل مقصود اولاد کا حصول ہوتا ہے۔اور ہونا چاہیے۔تو جو عورت اس وصف ہی سے محروم ہو تو اس سے نکاح کرنے کا کیا فائدہ؟ تاہم اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ بانجھ عورت سے مطلقاً ہی نکاح کرنا ممنوع ہے۔بلکہ بعض دفع نکاح کے کچھ اور مقاصد بھی ہوتے ہیں۔تو وہاں ان سے نکاح کرنا جائز ہوگا۔ بلکہ بعض دفعہ پسندیدہ بھی ہوسکتا ہے۔2۔بیوہ عورت کے متعلق تو معلوم ہوجاتا ہے۔کہ وہ عقیم ہے۔مگر کنواری میں حیض نہ آنا ایک امکانی سبب ہوسکتاہے۔یقینی نہیں۔3۔بہت زیادہ محبت کرنے والی اور بہت بچے جننے والی یہ صفات خاندانی عرف سے جانی جاسکتی ہیں۔ویسے کنواری لڑکیوں میں یہ اوصاف بالعموم فطرتاً پائے جاتے ہیں۔