Book - حدیث 2048

كِتَابُ النِّكَاحِ بَابُ فِي تَزْوِيجِ الْأَبْكَارِ صحیح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، أَخْبَرَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: >أَتَزَوَّجْتَ؟<، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: >بِكْرًا، أَمْ ثَيِّبًا؟<، فَقُلْتُ: ثَيِّبًا، قَال:َ >أَفَلَا بِكْرٌ! تُلَاعِبُهَا وَتُلَاعِبُكَ.

ترجمہ Book - حدیث 2048

کتاب: نکاح کے احکام و مسائل باب: کنواری لڑکی سے شادی کرنے کی ترغیب سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے پوچھا ” کیا تو نے شادی کر لی ہے ؟ “ میں نے عرض کیا : ہاں ! آپ ﷺ نے فرمایا ” کنواری سے یا بیوہ سے ؟ “ میں نے کہا ، بیوہ سے ۔ فرمانے لگے ” کنواری سے کیوں نہیں کی ؟ تم اس سے کھیلتے وہ تم سے کھیلتی ۔ “ کنواری لڑکی سے شادی زیادہ مرغوب ہے اور کنوارے میاں بیوی میں ہنسی کھیل فطرتاً اور بالعموم بہت زیادہ ہوتا ہے۔ بخلاف بیوہ کے یہ عمل نفسیاتی صحت کےلئے بہت عمدہ ہوتا ہے۔نیز اس سے یہ بھی معلوم ہواکہ میاں بیوی میں لہو لعب جائز اور حق ہے۔تاہم کچھ اور وجوہات سے بیوہ سے شادی کرنا بھی باعث فضیلت ہے۔جیسا کہ نبی کریمﷺ کا عمل اس پر شاہد ہے۔