Book - حدیث 2010

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ التَّحصِيبِ صحیح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا فِي حَجَّتِهِ قَالَ هَلْ تَرَكَ لَنَا عَقِيْلٌ مَنْزِلًا ثُمَّ قَالَ نَحْنُ نَازِلُونَ بِخَيْفِ بَنِي كِنَانَةَ حَيْثُ قَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَى الْكُفْرِ يَعْنِي الْمُحَصَّبَ وَذَلِكَ أَنْ بَنِي كِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَى بَنِي هَاشِمٍ أَنْ لَا يُنَاكِحُوهُمْ وَلَا يُبَايِعُوهُمْ وَلَا يُؤْوُوهُمْ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَالْخَيْفُ الْوَادِي

ترجمہ Book - حدیث 2010

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل باب: وادی محصب ( ابطح ) میں اترنے کا بیان سیدنا اسامہ بن زید ؓ کہتے ہیں کہ حج کے موقع پر میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ! آپ کل کہاں قیام فرمائیں گے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” بھلا عقیل نے ہمارے لیے کوئی منزل رہنے بھی دی ہے ؟ “ پھر آپ ﷺ نے فرمایا ” ہم خیف بنی کنانہ میں قیام کریں گے ، جہاں قریشیوں نے کفر پر آپس میں معاہدہ کیا تھا ۔ “ یعنی وادی محصب میں ۔ اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ بنی کنانہ نے قریشیوں کے ساتھ بنی ہاشم کے خلاف یہ قسمیں اٹھائی تھیں کہ ان سے نکاح شادی کریں گے نہ خرید و فروخت اور نہ انہیں کوئی جگہ دیں گے ۔ زہری نے کہا ” خیف “ وادی ہے ۔ -1رسول اللہ ﷺ نے اپنے والد کاترکہ ہجرت کی بنا پر چھوڑ دیا تھا۔اور ابو طالب کی جائیداد طالب اور عقیل کو ملی تھی۔حضرت جعفر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بوجہ مسلمان ہونے کے اس کے وارث نہ ہوئے تھے۔اور پھر طالب بد ر کے موقع پرلا پتہ ہوگیا۔تو عقیل نے تمام گھر پر قبضہ کرلیا۔2۔وادی محصب(ابطح) میں اترنا اظہار تشکر کے طور پر تھا۔ کہ یہیں قریش نے نبی کریمﷺ اور مسلمانوں کے بایئکاٹ کا فیصلہ کیا تھا۔آج اللہ نے اس کے آثار مٹا کر نتیجہ الٹ دیا تھا۔ یعنی اللہ نے ان مقامات کو اسلام کا مرکز بنادیا تھا۔اور مسلمان ان پر غالب آگئے تھے۔اسی لئے یہاں شکرانے کے طو ر پر اُترنا مستحب گردانا جاتا ہے۔