Book - حدیث 1981

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ الْحَلْقِ وَالتَّقْصِيرِ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ حَدَّثَنَا حَفْصٌ عَنْ هِشَامٍ عَنْ ابْنِ سِيرِينَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَمَى جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ يَوْمَ النَّحْرِ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ بِمِنًى فَدَعَا بِذِبْحٍ فَذُبِحَ ثُمَّ دَعَا بِالْحَلَّاقِ فَأَخَذَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنِ فَحَلَقَهُ فَجَعَلَ يَقْسِمُ بَيْنَ مَنْ يَلِيهِ الشَّعْرَةَ وَالشَّعْرَتَيْنِ ثُمَّ أَخَذَ بِشِقِّ رَأْسِهِ الْأَيْسَرِ فَحَلَقَهُ ثُمَّ قَالَ هَا هُنَا أَبُو طَلْحَةَ فَدَفَعَهُ إِلَى أَبِي طَلْحَةَ

ترجمہ Book - حدیث 1981

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل باب: سر منڈانے یا کتروانے کا بیان سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی والے دن جمرہ عقبہ کو کنکریاں ماریں ، پھر منیٰ میں اپنی منزل پر تشریف لائے ، پھر اپنی قربانی طلب کی اور اسے ذبح کیا ، پھر حجام کو بلوایا اور اس نے آپ کے سر کے دائیں جانب کو لیا اور اسے مونڈا ۔ تو آپ نے اپنے پاس والوں کو ایک ایک دو دو بال تقسیم کر دیے ۔ پھر اس نے بائیں جانب کو لیا اور اسے مونڈا تو آپ نے فرمایا ” ابوطلحہ یہاں ہے ؟ “ چنانچہ وہ ابوطلحہ ؓ کو دے دیے ۔ (1) حجامت کے مسئلے میں بھی شرعی ہدایت یہی ہے کہ پہلے دائیں جانب سے بال کاٹے جائیں ۔ (2) رسول اللہ ﷺ کےبال مبارک بال تھے جو صحابہ میں بطور تبرک متداول رہے ۔ ان سے شفا بھی حاصل کی جاتی تھی ۔ اور یہ صفت صرف اور صرف آپ ﷺ ہی کے بالوں کوحاصل رہی ہے ۔ آج کل کئی مقامات پر سوئے مبارک بیان کیے جاتے ہیں چاہے کہ ان کی موثوق سند پیش کی جائے ۔ مگر فی الواقع اس کا پیش کیا جانا ناممکن ہے ۔ (3) حصول تبرک کوئی قیاس اور من پسند مسئلہ نہیں اس کا تعلق عقیدہ سے ہے ۔ مبارک اشیا مبارک مقامات اور مبارک اوقات وہی ہیں جو احادیث صحیحہ میں بیان ہو چکے ہیں ۔ اس لیے مسلمانوں کو تبرک کےمعاملے میں متنبہ اور حساس ہونا چاہے ۔ یعنی جس بزرگ سمجھ لیا اس کی ہر چیز کو متبرک سمجھنا شروع کردیا یہ یکسر غلط ہے ۔ حضرت ابوبکر صدیق سے بڑھ کر امتیوں میں کون بزرگ ہو سکتاہے ؟کوئی نہیں ۔ لیکن صحابہ نے صرف رسول اللہ ﷺ ہی کے بالوں وغیرہ کو متبرک سمجھا اور آپ کے علاوہ حضرت ابوبکر صدیق تک کی کسی چیز کومتبرک نہیں سمجھا ۔ اور فہم دین صحابہ ہی کا معتبر ہے نہ کہ آج کل کے شرک وبدعت زدہ لوگوں کا ۔ (4) رسول اللہ ﷺ کے موئے مبارک کی اہمیت کا اندازہ جلیل القدر مخضرم تابعی امام عبیدہ بن عمرو سلمان ﷫ کے اس قول سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے جو امام المجدثین امیر المومنین فی الحدیث حضرت امام بخاری ﷫ نے اپنی صحیح میں نقل کیا ہے ۔ وہ فرماتے ہیں : [لان تكون عندي شعرة منه احب الي من الدنيا ومافيها] (صحيح البخاري، الوضوء، حدیث170) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک موئے مبارک میرے پاس ہو تو یہ مجھے دنیا ومافیہا سے زیادہ محبوب ہے۔ اللہ اکبرکبیرا-ہم ان پاکیزہ جذبات واحساسات کی تہہ تک پہنچ سکتے ہیں ، نہ ان کی قدرو منزلت کااندازہ ہی لگا سکتے ہیں ۔ یہ معیار کمال درجے کا معیار محبت ہے۔ یا اللہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمیں بھی ایسی ہی کمال درجے کی محبت عطا فرما۔آمین۔امام ذہبی رحمہ اللہ نے اس خوبصورت قول پر جو عمدہ تعلیق لگائی ہے۔ وہ بھی اپنی مثال آپ ہے(تفصیل کےلیے دیکھیئے : (سیراعلام النبلاء جلد4 ص42، 43)