Book - حدیث 1949

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ مَنْ لَمْ يُدْرِكْ عَرَفَةَ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ حَدَّثَنِي بُكَيْرُ بْنُ عَطَاءٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَعْمَرَ الدِّيلِيِّ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بِعَرَفَةَ فَجَاءَ نَاسٌ أَوْ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ نَجْدٍ فَأَمَرُوا رَجُلًا فَنَادَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ الْحَجُّ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلًا فَنَادَى الْحَجُّ الْحَجُّ يَوْمُ عَرَفَةَ مَنْ جَاءَ قَبْلَ صَلَاةِ الصُّبْحِ مِنْ لَيْلَةِ جَمْعٍ فَتَمَّ حَجُّهُ أَيَّامُ مِنًى ثَلَاثَةٌ فَمَنْ تَعَجَّلَ فِي يَوْمَيْنِ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ وَمَنْ تَأَخَّرَ فَلَا إِثْمَ عَلَيْهِ قَالَ ثُمَّ أَرْدَفَ رَجُلًا خَلْفَهُ فَجَعَلَ يُنَادِي بِذَلِكَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَكَذَلِكَ رَوَاهُ مِهْرَانُ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ الْحَجُّ الْحَجُّ مَرَّتَيْنِ وَرَوَاهُ يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ عَنْ سُفْيَانَ قَالَ الْحَجُّ مَرَّةً

ترجمہ Book - حدیث 1949

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل باب: جو شخص وقوف عرفات نہ پا سکے ؟ جناب عبدالرحمٰن بن یعمر الدیلی ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جب کہ آپ میدان عرفات میں تھے ۔ اسی دوران میں نجد کی طرف کے کچھ لوگ آئے اور انہوں نے ایک شخص کو کہا تو اس نے پکار کر کہا : اے اﷲ کے رسول ! حج کیسے ہے ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ( بھی ) ایک شخص کو حکم دیا اور اس نے پکار کر کہا : ” حج ، حج عرفات کا دن ہے ۔ جو شخص مزدلفہ کی رات میں فجر کی نماز سے پہلے پہلے یہاں آ گیا اس کا حج پورا ہو گیا ۔ منیٰ کے دن تین ہیں ۔ جو شخص دو دن بعد جلدی سے واپس ہو جائے اس پر کوئی گناہ نہیں اور جو تاخیر کرے ( تیسرا دن بھی وقوف کرے ) تو اس پر بھی کوئی گناہ نہیں ۔ “ پھر آپ نے اپنے پیچھے ایک شخص کو سوار کرا لیا جو اس بات کی منادی کرنے لگا ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ مہران نے سفیان سے ایسے ہی روایت کیا ہے «الحج الحج» ( یعنی ) دو بار ۔ جبکہ یحییٰ بن سعید قطان نے سفیان سے یہ لفظ «الحج» ایک بار بیان کیا ہے ۔ وقوف عرفات حج کا رکن ہے ۔خواہ معمولی وت کے لیے ہی کیوں نہ ہو ۔ اور اس وقت نو ذوالحجہ کوزوال کے وقت سےلے کر اگلے دن صبح صادق سے پہلے تک ہے ۔ جس سے یہ وقوف فوت ہو جائے اس کا حج نہیں ۔