Book - حدیث 1947

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ الْأَشْهُرِ الْحُرُمِ صحيح حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِي بَكْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ فِي حَجَّتِهِ فَقَالَ إِنَّ الزَّمَانَ قَدْ اسْتَدَارَ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ خَلَقَ اللَّهُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ السَّنَةُ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ثَلَاثٌ مُتَوَالِيَاتٌ ذُو الْقِعْدَةِ وَذُو الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمُ وَرَجَبُ مُضَرَ الَّذِي بَيْنَ جُمَادَى وَشَعْبَانَ

ترجمہ Book - حدیث 1947

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل باب: حرمت والے مہینوں کا بیان سیدنا ابوبکر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے حج میں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ” بلاشبہ زمانہ اپنی اس ( اصل ) کیفیت پر گھوم آیا ہے ( جس پر کہ اپنے پہلے روز تھا ) جب کہ اﷲ نے آسمانوں اور زمیں کو پیدا فرمایا تھا ۔ سال کے بارہ مہینے ہیں ، اور ان میں سے چار مہینے حرمت والے ہیں ۔ تین مہینے متواتر ہیں ، یعنی ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا مضر کا رجب ہے جو جمادی اور شعبان کے درمیان ہوتا ہے ۔ “ (1)اہل عرب میں قدیم سے یہ روایت چلی آتی تھی کہ ذوالقعدہ ذوالحجہ محرم اور رجب کےمہینوں کو حرمت والے مہینے جانتے تھے اور ان میں قتل و غارت اور عام دنگا فساد سےپرہیز کرتے تھے ۔چنانچہ اسلام نے بھی ان کی حرمت کو بحال رکھا ہے مگر اس کایہ مفہوم نہیں کہ باقی مہینوں میں جو چاہے کیاجائے نہیں بلکہ ہمیشہ ہی اللہ کی حرمت کا پاس رکھنا فرض اورواجب ہے مگر ان مہینوں میں اور زیادہ اہتمام کیا جانا چاہیے ۔سورہ توبہ میں ہے :﴿إِنَّ عِدَّةَ الشُّهورِ‌ عِندَ اللَّهِ اثنا عَشَرَ‌ شَهرً‌ا فى كِتـٰبِ اللَّهِ يَومَ خَلَقَ السَّمـٰو‌ٰتِ وَالأَر‌ضَ مِنها أَر‌بَعَةٌ حُرُ‌مٌ﴾ (التوبه :36) مہینوں کی گنتی اللہ کے نزدیک کتاب اللہ میں باره کی ہے، اسی دن سے جب سے آسمان وزمین کو اس نے پیدا کیا ہے اس میں سے چار حرمت وادب کے ہیں۔(2) زمانہ گھوم آیاہے اس میں اہل جاہلیت کی اس قبیح رسم کی طرف اشارہ ہے کہ وہ لوگ مہینوں کو آگے پیچھے کر دیتے تھے ۔مثلاً محرم کوصفر کی جگہ مؤخر اور صفر کومقدم کر دیا اور اسے نسیء سےتعبیر کرتے تھے ۔ اس طرح سال کی تاریخوں میں بہت خرابی پیدا ہوگئی تھی ۔اورجس سال نبی ﷺنے حج کیا اس سال اور تاریخ اپنے بالکل صحیح وقت پرآئی تھی ۔قرآن کریم نے عمل نسیء کو کفریہ اعمال میں سے شمار کیا ہے اورآیندہ صحیح تاریخ کی حفاظت کی ترغیب دی ہے ۔﴿انما النسىءزيادة فى الكفر .... الخ ﴾ (التوبه:37) (3)ماہ رجب کو قبیلہ مضر کی طرف اس لیے منسوب کیا گیاہے کہ وہ لوگ اس کابہت زیادہ احترام کرتے تھے ۔