Book - حدیث 1825

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ مَا يَلْبَسُ الْمُحْرِمُ صحیح حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَاهُ وَزَادَ وَلَا تَنْتَقِبُ الْمَرْأَةُ الْحَرَامُ وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ قَالَ أَبُو دَاوُد وَقَدْ رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ وَيَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ عَنْ نَافِعٍ عَلَى مَا قَالَ اللَّيْثُ وَرَوَاهُ مُوسَى بْنُ طَارِقٍ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ مَوْقُوفًا عَلَى ابْنِ عُمَرَ وَكَذَلِكَ رَوَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ وَمَالِكٌ وَأَيُّوبُ مَوْقُوفًا وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَدِينِيُّ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُحْرِمَةُ لَا تَنْتَقِبُ وَلَا تَلْبَسُ الْقُفَّازَيْنِ قَالَ أَبُو دَاوُد إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَدِينِيُّ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَيْسَ لَهُ كَبِيرُ حَدِيثٍ

ترجمہ Book - حدیث 1825

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل باب: محرم کے لباس کا بیان جناب نافع نے سیدنا ابن عمر ؓ سے ، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کیا ہے اور مزید کہا ہے ” احرام والی عورت نقاب پہنے نہ دستانے پہنے ۔ “ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ یہ حدیث حاتم بن اسمٰعیل اور یحییٰ بن ایوب نے موسیٰ بن عقبہ سے ، انہوں نے نافع سے اسی طرح روایت کی ہے جیسے کہ لیث نے روایت کی ہے ۔ مگر اس کو موسیٰ بن طارق نے موسیٰ بن عقبہ سے سیدنا ابن عمر ؓ پر موقوفاً روایت کیا ہے ۔ اور ایسے ہی عبیداللہ بن عمر ، مالک اور ایوب نے بھی موقوفاً روایت کیا ہے جبکہ ابراہیم بن سعید مدنی نے نافع سے ، انہوں نے ابن عمر ؓ سے ، انہوں نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا کہ ” احرام والی نقاب لگائے نہ دستانے پہنے ۔ “ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ ابراہیم بن سعید مدنی اہل مدینہ میں سے صرف ایک شیخ ( عالم ) ہیں کوئی زیادہ صاحب حدیث نہیں ہیں ۔ ( ان کی روایت آگے آ رہی ہے ) ۔ حدیث میں محرم عورت کے نقاب ڈالنے سےمنع کیا گیاہے ۔ اس نقاب سے ایک خاص نقاب مراد ہے جو کہ ناک پر یا آنکھ کےنیچے باندھا جاتا ہے ۔ اس سےمراد وہ نقاب نہیں ہے جو آج کل معروف ہے اور جسےچہرے کے پردے کےلیے استعمال کیاجاتا ہے ۔ بعض لوگ اس سے موجودہ نقاب مراد لے کر محرم عورت کوچہرہ ڈھانپنے سے منع کرتے ہیں ۔لیکن یہ بات صحیح نہیں۔ جس نقاب سےمنع کیا گیا ہے اس کا تعلق حجاب یا چہرے کے پردے سے نہیں یہ پردہ تواحرام کی حالت میں ہو یا غیر احرام کی ہر وقت ضروری ہے ۔ محرم عورت کو ایک مخصوص قسم کےنقاب سے روکا گیا ہے جو کہ صرف ناک یاآنکھ کے نیچے باندھا جاتا ہے ۔ جس سےمنع کر دیا گیا۔ اس ممانعت کا تعلق حجاب والے نقاب سے نہیں ۔ اس لیے اس کا تو حکم حالت احرام میں بھی ہے ۔ جیسا کہ موطا امام مالک میں روایت ہے فاطمہ بنت منذر بیان کرتی ہیں کہ ہم حالت احرام میں اپنے چہرے ڈھانپا کرتی تھیں اور اسماء بن ابی بکر صدیق ؓ بھی ہمارے ساتھ ہوئی تھیں ۔ (موطا امام مالک :1/328)نیز مستدرک حاکم میں بھی انہی سےروایت ہے کہ ہم مردوں سے اپنے چہروں کا پردہ کرتی تھیں ۔(مستدرک حاکم :1/454) علاوہ ازین حضرت عائشہ ؓ سےمروی ہے کہ محرم عورت نہ نقاب ڈالے اور نہ گھونگھٹ نکالے البتہ سرکی طرف سے چہرے پر کپڑا لٹکالے ۔ (السنن الکبری للبیہقی :5/47) ان تمام موقوف روایات سے معلوم ہواکہ آپ نے خاص قسم کے نقاب سےمنع کیا ہے نہ کہ بالکل ہی پردہ کرنے سےمنع کیا ہے ۔اس لیے ہر خاتون کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں اپنے رب سے ڈرے اور فیشن ایبل اور ایسے تمام نقابون سے بچے جو بے حجابی کو فروغ دیتے ہوں ۔