Book - حدیث 181

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ مَسِّ الذَّكَرِ صحیح حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ، يَقُولُ: دَخَلْتُ عَلَى مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، فَذَكَرْنَا مَا يَكُونُ مِنْهُ الْوُضُوءُ، فَقَالَ مَرْوَانُ: وَمِنْ مَسِّ الذَّكَرِ؟ فَقَالَ عُرْوَةُ: مَا عَلِمْتُ ذَلِكَ! فَقَالَ مَرْوَانُ: أَخْبَرَتْنِي بُسْرَةُ بِنْتُ صَفْوَانَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: >مَنْ مَسَّ ذَكَرَهُ فَلْيَتَوَضَّأْ

ترجمہ Book - حدیث 181

کتاب: طہارت کے مسائل باب: شرم گاہ کوچھونے سے وضو جناب عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ میں مروان بن حکم کے پاس گیا ، وہاں یہ موضوع چھڑ گیا کہ کس کس چیز سے وضو لازم آتا ہے ؟ مروان نے کہا کہ شرمگاہ کو چھونے سے بھی ( وضو لازم آتا ہے ؟ ) عروہ کہتے ہیں : میں نے کہا کہ مجھے معلوم نہیں ۔ مروان نے کہا کہ مجھے بسرہ بنت صفوان ؓا نے بتایا ، وہ کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ ﷺ فرماتے تھے ” جو کوئی اپنے ذکر کو ہاتھ لگائے اسے چاہیئے کہ وضو کرے ۔ “ زیرنظرمسئلہ میں شرمگاہ کوہاتھ لگانےسےوضوٹوٹنےاورنہ ٹوٹنےکی دونوں احادیث واردہیں اوردونوں ہی صحیح ہیں۔ محدثین ان کےمابین تطبیق یہ دیتےہیں اگربراہ راست بغیرکسی حائل کےہاتھ لگےتووضوٹوٹ جاتاہےلیکن درمیان میں کپڑاہوتووضونہیں ٹوٹتا۔ یااگرشہوانی جذبات کےتحت ہاتھ لگایاہوتووضوٹوٹ جاتاہےاس کےبغیرہوتونہیں ٹوٹتا۔کچھ محدثین کےنزدیک زیرنظرحدیث(بسرہ بنت صفوان)دوسری حدیث(طلق)کی ناسخ ہے۔خیال رہےکہ عورتوں کےلیےبھی یہی مسئلہ ہے۔