Book - حدیث 180

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ الْوُضُوءِ مِنْ الْقُبْلَةِ حسن حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَخْلَدٍ الطَّالْقَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَعْنِي ابْنَ مَغْرَاءَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، أَخْبَرَنَا أَصْحَابٌ لَنَا، عَنْ عُرْوَةَ الْمُزَنِيِّ، عَنْ عَائِشَةَ بِهَذَا الْحَدِيثِ. قَالَ: أَبُو دَاوُد: قَالَ: يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ لِرَجُلٍ احْكِ عَنِّي أَنَّ هَذَيْنِ يَعْنِي حَدِيثَ الْأَعْمَشِ هَذَا، عَنْ حَبِيبٍ وَحَدِيثَهُ بِهَذَا الْإِسْنَادِ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ أَنَّهَا تَتَوَضَّأُ لِكُلِّ صَلَاةٍ قَالَ: يَحْيَى احْكِ عَنِّي أَنَّهُمَا شِبْهُ لَا شَيْءَ. قَالَ: أَبُو دَاوُد: وَرُوِيَ عَنِ الثَّوْرِيِّ قَالَ: مَا، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ إِلَّا، عَنْ عُرْوَةَ الْمُزَنِيِّ يَعْنِي لَمْ يُحَدِّثْهُمْ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ بِشَيْءٍ. قَالَ: أَبُو دَاوُد: وَقَدْ رَوَى حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، عَنْ حَبِيبٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ حَدِيثًا صَحِيحًا.

ترجمہ Book - حدیث 180

کتاب: طہارت کے مسائل باب: بوسہ لینے سے وضو کا مسئلہ...؟ ابراہیم بن مخلد کی سند سے اعمش سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھیوں نے عروہ مزنی سے روایت کیا ، وہ سیدہ عائشہ ؓا سے یہ حدیث روایت کرتے ہیں ۔ امام ابوداؤد ؓ نے بیان کیا کہ یحییٰ بن سعید القطان نے ایک شخص سے کہا : میری طرف سے یہ بات بیان کرو کہ اعمش کی حبیب سے یہ روایت اور اسی سند سے مسئلہ استخاضہ والی روایات جس میں ہے کہ استخاضہ والی عورت ہر نماز کے لیے وضو کرے ۔ یحییٰ نے کہا میری طرف سے یہ بیان کرو کہ یہ دونوں حدیثیں نہ ہونے کے برابر ہیں ( یعنی ضعیف ہیں ) ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ سفیان ثوری سے مروی ہے ، کہتے ہیں ہمیں حبیب نے جو روایات بیان کی ہیں وہ سب عروہ مزنی ہی سے روایت ہوئی ہیں ، عروہ بن زبیر سے کچھ بیان نہیں کیا ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ حمزہ زیات نے حبیب سے اس نے عروہ بن زبیر سے انھوں نے سیدہ عائشہ ؓا سے روایت کی ہے اور یہ سند صحیح ہے ۔ 1۔ شوہراگراپنی بیوی کا بوسہ لےتواس سےوضوپرکوئی اثرنہیں پڑتا، بشرطیکہ اس سےمذی کااخراج نہ ہو۔سورہ نساء کی آیت:43اورسورہ مائدہ کی آیت نمبر:6میں أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ ’’اگر تم نےعورتوں کوچھواہوتو........‘‘سےمرادمباشرت ہے۔ 2۔ امام ابوداؤد﷫ نےمختلف اسانیدسےاس اختلاف کی طرف اشارہ کیاہےکہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سےروایت کرنےوالےاورصراحت کروانےوالےان کےاپنےبھانجےعروہ بن زبیر ہی ہیں۔ دوسرےراوی عروہ مزنی ان سےیہ صراحت کروائیں ازحدمحال ہے۔ 3۔اس قسم کےجملےاورباتیں جوجناب عروہ اورحضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کےمابین نقل ہوئی ہیں عزیزوں میں حدادب کےاندرمباح اورجائزہیں اورچونکہ یہ شرعی مسائل ہیں اس لیے ان کانقل کیاجاناکوئی بری بات نہیں۔