Book - حدیث 1770

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ فِي وَقْتِ الْإِحْرَامِ ضعیف حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنِي خُصَيْفُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجَزَرِيُّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ قَالَ قُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ يَا أَبَا الْعَبَّاسِ عَجِبْتُ لِاخْتِلَافِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِهْلَالِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَوْجَبَ فَقَالَ إِنِّي لَأَعْلَمُ النَّاسِ بِذَلِكَ إِنَّهَا إِنَّمَا كَانَتْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَجَّةً وَاحِدَةً فَمِنْ هُنَاكَ اخْتَلَفُوا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجًّا فَلَمَّا صَلَّى فِي مَسْجِدِهِ بِذِي الْحُلَيْفَةِ رَكْعَتَيْهِ أَوْجَبَ فِي مَجْلِسِهِ فَأَهَلَّ بِالْحَجِّ حِينَ فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ فَسَمِعَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ فَحَفِظْتُهُ عَنْهُ ثُمَّ رَكِبَ فَلَمَّا اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ أَهَلَّ وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ وَذَلِكَ أَنَّ النَّاسَ إِنَّمَا كَانُوا يَأْتُونَ أَرْسَالًا فَسَمِعُوهُ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ يُهِلُّ فَقَالُوا إِنَّمَا أَهَلَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ ثُمَّ مَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ أَهَلَّ وَأَدْرَكَ ذَلِكَ مِنْهُ أَقْوَامٌ فَقَالُوا إِنَّمَا أَهَلَّ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أَوْجَبَ فِي مُصَلَّاهُ وَأَهَلَّ حِينَ اسْتَقَلَّتْ بِهِ نَاقَتُهُ وَأَهَلَّ حِينَ عَلَا عَلَى شَرَفِ الْبَيْدَاءِ قَالَ سَعِيدٌ فَمَنْ أَخَذَ بِقَوْلِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ أَهَلَّ فِي مُصَلَّاهُ إِذَا فَرَغَ مِنْ رَكْعَتَيْهِ

ترجمہ Book - حدیث 1770

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل باب: احرام باندھنے کا وقت سیدنا سعید بن جبیر ؓ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ سے کہا : اے ابو العباس ! مجھے تعجب ہے کہ اصحاب رسول ، رسول اللہ ﷺ کے احرام کے بارے میں اختلاف کرتے ہیں کہ آپ نے کس وقت احرام باندھا تھا ۔ انہوں نے کہا : میں اس بارے میں سب سے زیادہ باخبر ہوں ۔ دراصل آپ نے چونکہ ایک ہی حج کیا ہے تو اس وجہ سے اختلاف ہوا ہے ۔ آپ حج کی نیت سے روانہ ہوئے ۔ جب آپ نے اپنی مسجد میں یعنی ذوالحلیفہ میں دو رکعتیں پڑھ لیں تو آپ نے اپنی اسی مجلس میں نیت فر لی اور ان دو رکعتوں سے فارغ ہونے کے بعد حج کا تلبیہ کہا ۔ پس کچھ لوگوں نے اس وقت سن لیا اور اسے یاد رکھا ۔ پھر آپ ﷺ اپنی سواری پر سوار ہو گئے ۔ جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی تو آپ نے تلبیہ کہا ، کچھ لوگوں نے اس کو پایا ۔ درحقیقت لوگ گروہ در گروہ آپ کے پاس آ رہے تھے تو جنہوں نے آپ کو اونٹنی پر بیٹھے ہوئے تلبیہ پکارتے سنا ، انہوں نے یہی سمجھا کہ آپ نے اونٹنی پر بیٹھنے کے بعد ، جب وہ کھڑی ہوئی ہے ، تلبیہ کہا ہے ۔ پھر رسول اللہ ﷺ چل دیے اور جب میدان بیداء کی بلندی پر پہنچے تو آپ نے تلبیہ کہا ۔ کچھ لوگوں نے اس کو پایا تو انہوں نے کہا کہ آپ نے بیداء کی بلندی پر پہنچ کر تلبیہ کہا ۔ ( سعید نے کہا ) قسم اللہ کی ! آپ نے اپنی جائے نماز ہی پر تلبیہ کہا تھا ۔ پھر جب آپ کی اونٹنی آپ کو لے کر کھڑی ہوئی تو تلبیہ کہا ۔ اور جب میدان بیداء کی بلندی پر پہنچی تو آپ نے تلبیہ کہا ۔ سعید بن جبیر نے کہا کہ جو لوگ سیدنا ابن عباس ؓ کے بیان پر عمل پیرا ہیں وہ اپنی دو رکعتوں کے بعد جائے نماز ہی سے تلبیہ شروع کر دیتے ہیں ۔ [اھل ] کے معنی ہیں (اپنی آواز بلند کی ) [لبیک اللهم لبیک ] بآواز بلند پکارا_اوراحرام کےمعنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔خیال رہے یہ حدیث ضعیف ہے ۔ شیخ البانی ﷫نے بھی اسے الضعیفہ میں درج کیاہے ۔ لیکن علامہ احمد شاکرنےاس حدیث کوصحیح قراردیا ہے_(2)اس روایت مین ذوالحلیفہ میں جو دورکعتیں پڑھنے کا ذکر ہے جس کے بعد آپ نے حج کے لیے تلبیہ پکارا اس سے مراد نماز ظہر کی دو رکعت (نماز قصر ) ہے جیسا کہ صحیح مسلم (حدیث :1243،)اور سنن نسائی (حدیث :2756)میں صراحت ہے ۔اس لیے اس کے آخر میں حضرت سعید بن جبیر کے قول سے احرام کے وقت دو رکعت پڑھنے کا اثبات مترشح ہو رہا ہے وہ صحیح نہیں ۔ کیونکہ نبی ﷺ سے اس کا کوئی واضح ثبوت نہیں ۔