Book - حدیث 1763

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ فِي الْهَدْيِ إِذَا عَطِبَ قَبْلَ أَنْ يَبْلُغَ صحیح حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ وَمُسَدَّدٌ قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ح و حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ وَهَذَا حَدِيثُ مُسَدَّدٍ عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ عَنْ مُوسَى بْنِ سَلَمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فُلَانًا الْأَسْلَمِيَّ وَبَعَثَ مَعَهُ بِثَمَانِ عَشْرَةَ بَدَنَةً فَقَالَ أَرَأَيْتَ إِنْ أُزْحِفَ عَلَيَّ مِنْهَا شَيْءٌ قَالَ تَنْحَرُهَا ثُمَّ تَصْبُغُ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا ثُمَّ اضْرِبْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَصْحَابِكَ أَوْ قَالَ مِنْ أَهْلِ رُفْقَتِكَ قَالَ أَبُو دَاوُد الَّذِي تَفَرَّدَ بِهِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَوْلُهُ وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ وَلَا أَحَدٌ مِنْ رُفْقَتِكَ وَقَالَ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الْوَارِثِ ثُمَّ اجْعَلْهُ عَلَى صَفْحَتِهَا مَكَانَ اضْرِبْهَا قَالَ أَبُو دَاوُد سَمِعْت أَبَا سَلَمَةَ يَقُولُ إِذَا أَقَمْتَ الْإِسْنَادَ وَالْمَعْنَى كَفَاكَ

ترجمہ Book - حدیث 1763

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل باب: قربانی کا جانور منزل پر پہنچنے سے پہلے ہی تھک کر ( سفر سے لاچار ہو کر ) گر پڑے تو؟ سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺ نے فلاں اسلمی کو بھیجا اور اس کے ساتھ اٹھارہ اونٹ قربانی کے بھجوائے ۔ وہ کہنے لگا : فرمائیے اگر ان میں سے کوئی اپنے پاؤں گھسیٹنے لگے ( چلنے سے لاچار ہو جائے اور تھک جائے تو ؟ ) آپ نے فرمایا ” اسے نحر کر دینا ، اس کے جوتوں کو خون سے چپڑ کر اس کی کوہان پر نشان لگا دینا اور تم یا تمہارے ساتھیوں میں سے کوئی اس سے نہ کھائے ۔ “ حدیث کے لفظ «من أصحابك» تھے یا «أهل رفقتك» تھے ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں یہ جملہ « ولا تأكل منها أنت ولا أحد من أهل رفقتك» منفرد ہے اور عبدالوارث کی روایت میں «ثم اضربها» کی بجائے «اجعله على صفحتها» آیا ہے ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ میں نے ابوسلمہ ( موسیٰ بن اسمٰعیل المنقری ) سے سنا ، وہ کہتے تھے کہ جب تم نے حدیث کی سند اور اس کے معنی صحیح اور درست طور پر بیان کر دیے تو کافی ہے ( الفاظ بدلنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا یعنی روایت بالمعنی جائز ہے ) ۔ (1)ہدی کا جانور راستے میں لاچار ہو جائے یا ہلاک ہونے لگے تو اس کو وہیں نحر یا ذبح کر دیا جائے اس کے پائے اور کوہان پر خون سے نشان لگانا اس لیے ہے کہ عام لوگوں کو خبر رہے کہ ہدی کاجانور تھا ۔ہدی لے جانے والے خود اس سے کچھ نہ کھائیں ۔ (2)بالمعنی روایت کرنے اور اس کے جائز ہونے کی دوشرطیں ہیں ایک تو سند صحیح ہو دوسری یہ کہ وہ حدیث بھی صحیح المعنی ہو ۔