Book - حدیث 1736

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ فِي الصَّبِيِّ يَحُجُّ صحیح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُقْبَةَ عَنْ كُرَيْبٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالرَّوْحَاءِ فَلَقِيَ رَكْبًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ قَالَ مَنْ الْقَوْمُ فَقَالُوا الْمُسْلِمُونَ فَقَالُوا فَمَنْ أَنْتُمْ قَالُوا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَفَزِعَتْ امْرَأَةٌ فَأَخَذَتْ بِعَضُدِ صَبِيٍّ فَأَخْرَجَتْهُ مِنْ مِحَفَّتِهَا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ لِهَذَا حَجٌّ قَالَ نَعَمْ وَلَكِ أَجْرٌ

ترجمہ Book - حدیث 1736

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل باب: چھوٹا بچہ ، جو حج کرے سیدنا ابن عباس ؓ سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ مقام روحاء پر تھے کہ آپ کو ایک قافلے والے ملے ۔ آپ نے انہیں سلام کہا اور پوچھا : کون لوگ ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم مسلمان ہیں ۔ انہوں نے پوچھا : آپ کون لوگ ہیں ؟ صحابہ ؓم نے کہا : یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔ تو ایک عورت نے جلدی سے اپنے بچے کو بازو سے پکڑا اور اپنے ہودج سے باہر نکالا اور بولی : اے اللہ کے رسول ! کیا اس کے لیے حج ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” ہاں ! اور تیرے لیے اجر ہے ۔“ چھوٹے بچے اگر والدین یا سر پرستوں کے ساتھ ہوں توانہیں بھی اعمال حج میں شریک کیاجائے ۔جہاں تک وہ از خود ساتھ دے سکیں بہتر ہے باقی والدین کروائیں ۔ طواف اور سعی میں اٹھائیں ۔ عرفات مزدلفہ میں ساتھ رکھیں ۔ ان کی طرف سے کنکریاں ماریں وغیرہ ۔ان ثواب والدین کے لیے ہے اور یہ کتنی بڑی نعمت اور فضیلت ہے کہ کم خرچ اور معمولی مشقت سےمزید حج کاثواب مل جائے ۔ایک بچہ ہو تو ایک حج دو ہوں تو دو حج کا ثواب ملے گا علی ہذاالقیاس ۔تاہم بلوغت کے بعد انہیں اپنا حج اسلام کرنا ہوگا ۔