Book - حدیث 1730

كِتَابُ الْمَنَاسِكِ بَابُ التَّزَوُّدِ فِي الْحَجِّ صحیح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْفُرَاتِ يَعْنِي أَبَا مَسْعُودٍ الرَّازِيَّ وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَخْرَمِيُّ وَهَذَا لَفْظُهُ قَالَا حَدَّثَنَا شَبَابَةُ عَنْ وَرْقَاءَ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ كَانُوا يَحُجُّونَ وَلَا يَتَزَوَّدُونَ قَالَ أَبُو مَسْعُودٍ كَانَ أَهْلُ الْيَمَنِ أَوْ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ يَحُجُّونَ وَلَا يَتَزَوَّدُونَ وَيَقُولُونَ نَحْنُ الْمُتَوَكِّلُونَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ سُبْحَانَهُ <قرآن> وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَى الْآيَةَ

ترجمہ Book - حدیث 1730

کتاب: اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل باب: حج میں زادراہ لے کر جانے کی تاکید سیدنا ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ لوگ حج کو آتے مگر زاد راہ ساتھ نہ لاتے تھے ۔ ابومسعود نے کہا کہ اہل یمن یا کچھ اہل یمن حج کے لیے آتے مگر زاد راہ ساتھ نہ لاتے اور کہتے کہ ہم متوکل لوگ ہیں ۔ پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی : «وتزودوا فإن خير الزاد التقوى» ” زاد راہ ( یعنی اخراجات سفر ) ساتھ لے کر چلو اس لیے کہ بہترین توشہ تقویٰ ( سوال سے بچنا ) ہے ۔ “ اس آیت کریمہ میں اللہ عز وجل نے حکم دیا ہے کہ سفر میں کھانے پینے اور اقامت کے علاوہ دیگر تمام لوازم کے اخراجات لے کر آیا کرو ۔ ان کے بغیر نکل کھڑے ہونا اور پھر لوگوں کی طرف دیکھنا یا سوال کرتے پھرنا اور اس کا نام توکل رکھنا بالکل غلط ہے ۔ توکل کے مفہوم میں یہ ہے کہ مشروع اسباب اختیار کر لینے کے بعد اللہ تعالیٰ پر کامل اعتماد کیا جائے ۔ تاہم کچھ احادیث سے یہ معنی ضرور ملتا ہے کہ اگر کوئی شخص اس انداز میں اسباب ترک کر دیتا ہےکہ اسباب یامخلوق کی طرف اس کی نظر قطعاً نہ جائے تو اسے بھی متوکل کہا گیا ہے مگر یہ ازحد مشکل مقام ہے ۔