Book - حدیث 1717

كِتَابُ اللُّقَطَةِ بَابُ التَّعْرِيفِ بِاللُّقَطَةِ ضعیف حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدِّمَشْقِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ شُعَيْبٍ عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ زِيَادٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ الْمَكِّيِّ أَنَّهُ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ رَخَّصَ لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْعَصَا وَالسَّوْطِ وَالْحَبْلِ وَأَشْبَاهِهِ يَلْتَقِطُهُ الرَّجُلُ يَنْتَفِعُ بِهِ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَاهُ النُّعْمَانُ بْنُ عَبْدِ السَّلَامِ عَنْ الْمُغِيرَةِ أَبِي سَلَمَةَ بِإِسْنَادِهِ وَرَوَاهُ شَبَابَةُ عَنْ مُغِيرَةَ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ كَانُوا لَمْ يَذْكُرُوا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

ترجمہ Book - حدیث 1717

کتاب: گری پڑی گمشدہ چیزوں سے متعلق مسائل باب: گری پڑی چیز اٹھائے تو اس کا اعلان کرنے کا حکم سیدنا جابر بن عبداللہ ؓ سے مروی ہے فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ہمیں چھڑی ، رسی ، کوڑا اور اس قسم کی چیزیں اٹھا لینے کی رخصت دی تھی کہ انسان ان سے فائدہ اُٹھا لے ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ اسے نعمان بن عبدالسلام نے مغیرہ ( مغیرہ بن مسلم ) ابوسلمہ سے اپنی سند سے روایت کیا ہے ۔ اور شبابہ نے مغیرہ بن مسلم سے ، انہوں نے ابولزابیر سے ، انہوں نے جابر ؓ سے روایت کیا ہے ۔ ( کہا کہ وہ لوگ چھڑی ، کوڑا وغیرہ اٹھا لینے میں کوئی حرج نہ سمجھتے تھے ) اور نبی کریم ﷺ کا ذکر نہیں کیا ۔ ( موقوف بیان کیا ہے ) ۔ ابوالزبیر مکی سے دو حضرات روایت کرتے ہیں ۔ایک مغیرہ بن زیاد ان سے یہی متن امام ابوداؤد نے ذکر فرمایا ہے ۔دوسرے مغیرہ بن مسلم ابومسلمہ کی بیان کردہ روایت میں رسول اللہ ﷺ کی بجائے صحابی کےحوالے سے یہی بات کہی گئی ہے۔(عون المعبود)یہ روایت سنداً ضعیف ہے لیکن امام بخاری ﷫ نے ایک باب قائم کیا ہے: باب اذا وجد خشبة فى البحر او سوطااو نحوه یعنی جب کوئی شخص سمندر میں بہتی ہوئی لکڑی پائے یا چابک یا اس جیسی (کوئی انتہائی کم قیمت )چیز اسےمل جائے ۔اور نیچے وہ حدیث لائے ہیں جس سے سمندر میں بہتی ہوئی لکڑی ک ایندھن کے طور ‎پر لے جانے کا جواز ثابت ہوتا ہے ۔حافظ ابن حجر ﷫ فرماتے ہیں کہ امام بخاری ﷫ نے اس حدیث سے استنباط کر کے چابک کو شامل کیا ہے ۔(فتح الباری کتاب اللقطه باب مذکور )اس سے ثابت ہوا کہ امام ابوداؤد ﷫ کی بیان کردہ یہ حدیث اگرچہ سنداً ضعیف ہے لیکن اس میں جو حکم بیان کیا گیا وہ دیگر دلائل کی وجہ سے صحیح ہے ۔