Book - حدیث 170

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ مَا يَقُولُ الرَّجُلُ إِذَا تَوَضَّأَ صحیح حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ عَنْ حَيْوَةَ وَهُوَ ابْنُ شُرَيْحٍ عَنْ أَبِي عَقِيلٍ عَنْ ابْنِ عَمِّهِ عَنْ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ وَلَمْ يَذْكُرْ أَمْرَ الرِّعَايَةِ قَالَ عِنْدَ قَوْلِهِ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ فَقَالَ وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ مُعَاوِيَةَ

ترجمہ Book - حدیث 170

کتاب: طہارت کے مسائل باب: وضو کے بعد آدمی کیا پڑھے؟ ابو عقیل نے اپنے چچیرے بھائی سے انہوں نے عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے انہوں نے نبی کریم ﷺ سے مذکورہ بالا کی مانند روایت کی ہے اور اس میں اونٹوں کے چرانے کا ذکر نہیں کیا اور ” اچھی طرح وضو کرنے “ کے موقع پر کہا کہ پھر وہ ( وضو کرنے والا ) اپنی نظر آسمان کی طرف اٹھائے ( اور یہ دعا پڑھے ) اور معاویہ بن صالح کی روایت کی مانند بیان کیا ۔ فوائد مسائل: 1۔ یہ روایت ضعیف ہے اس لیے وضو کے بعد دعا پڑھتے ہوئے آسمان کی طرف نظر اٹھانا یا انگلی اٹھانا صحیح نہیں ہے۔ 2۔ اور جنت کے آٹھ دروازے ہیں جبکہ دوزخ کے سات ہیں ۔