Book - حدیث 1697

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ فِي صِلَةِ الرَّحِمِ صحیح حَدَّثَنَا ابْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ وَالْحَسَنِ بْنِ عَمْرٍو وَفِطْرٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ سُفْيَانُ وَلَمْ يَرْفَعْهُ سُلَيْمَانُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَفَعَهُ فِطْرٌ وَالْحَسَنُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْوَاصِلُ بِالْمُكَافِئِ وَلَكِنْ هُوَ الَّذِي إِذَا قُطِعَتْ رَحِمُهُ وَصَلَهَا

ترجمہ Book - حدیث 1697

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: رشتے ناتے والوں کے ساتھ میل جول اور حسن سلوک سیدنا عبداللہ بن عمرو ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” بدلے میں میل ملاپ کرنے والا صلہ رحمی کرنے والا نہیں ہے ، بلکہ صلہ رحمی کرنے والا وہ ہے جو توڑے جانے والے رشتے کو جوڑے ۔ “ محض ادلے بدلے میں اجر نہیں۔لیکن اگر للہ فی اللہ بدلہ دے۔تو ان شاء اللہ ماجور اور فضیلت کا کام ہے ۔(هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ)(الرحمٰن۔60) اور صلہ رحمی پر جس اجر فضیلت کا وعدہ کیا گیا ہے۔وہ اس صورت میں ہے کہ جب بندہ جب بنیادی طور پر اللہ پر ایمان اور رسول اللہ ﷺ کی سنت پر عمل سے موصوف ہو۔