Book - حدیث 1693

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ فِي صِلَةِ الرَّحِمِ صحیح حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٌ وَيَعْقُوبُ بْنُ كَعْبٍ وَهَذَا حَدِيثُهُ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ قَالَ أَخْبَرَنِي يُونُسُ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ أَنَسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَرَّهُ أَنْ يُبْسَطَ عَلَيْهِ فِي رِزْقِهِ وَيُنْسَأَ فِي أَثَرِهِ فَلْيَصِلْ رَحِمَهُ

ترجمہ Book - حدیث 1693

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: رشتے ناتے والوں کے ساتھ میل جول اور حسن سلوک سیدنا انس ؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جسے یہ بات اچھی لگتی ہو کہ اس کا رزق فراخ اور عمر طویل ہو تو اسے چاہیئے کہ اپنے عزیز و اقارب سے میل ملاپ رکھے ۔ “ اللہ عزوجل کا علم اٹل ہے۔ اور ا س نے ہر ہر انسان کی عمر اورتقدیر بھی لکھی ہوئی ہے۔ مگر جیسا کہ علماء نے لکھا ہے کہ تقدیر کے دو پہلو ہیں۔ ایک وہ علم جو قطعی ہے۔اسے تقدیر مبرم کہتے ہیں۔اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی۔ دوسرا وہ جس میں اللہ نے بعض چیزوں کو بعض چیزوں کے ساتھ مشروط (معلق) رکھا ہے۔اس میں تبدیلی کی گنجائش ہوتی ہے۔مثلا فرشتوں کو بتایا جاتا ہے۔کہ اس کی عمر ساٹھ سال ہے۔ لیکن اگر وہ صلہ رحمی جیسے اعمال حسنہ کرے۔ تو اس کی عمر میں اتنا مذید اضافہ کردیا جائے۔مثلا اس کی عمر نوےسال کردی جائے۔ اسے تقدیر معلق کہتے ہیں۔ اور یہ بھی پہلے سے ہی اللہ کے علم میں ہوتی ہے۔ اگر بندہ یہ اعمال نہ کرے تو اضافہ نہیں کیا جاتا اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کے علم میں ہوتا ہے۔