Book - حدیث 1691

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ فِي صِلَةِ الرَّحِمِ حسن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَجْلَانَ عَنْ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّدَقَةِ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ عِنْدِي دِينَارٌ فَقَالَ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى نَفْسِكَ قَالَ عِنْدِي آخَرُ قَالَ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى وَلَدِكَ قَالَ عِنْدِي آخَرُ قَالَ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى زَوْجَتِكَ أَوْ قَالَ زَوْجِكَ قَالَ عِنْدِي آخَرُ قَالَ تَصَدَّقْ بِهِ عَلَى خَادِمِكَ قَالَ عِنْدِي آخَرُ قَالَ أَنْتَ أَبْصَرُ

ترجمہ Book - حدیث 1691

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: رشتے ناتے والوں کے ساتھ میل جول اور حسن سلوک سیدنا ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے صدقہ کرنے کا حکم دیا تو ایک شخص نے کہا : اے اللہ کے رسول ! میرے پاس ایک دینار ہے ، آپ نے فرمایا ” اپنی جان پر صدقہ کر ۔ “ کہنے لگا میرے پاس دوسرا ہے ۔ فرمایا ” اپنے بچے پر صدقہ کر ۔ “ کہنے لگا میرے پاس ایک اور ہے ۔ فرمایا ” اپنی بیوی پر صدقہ کر ۔ “ لفظ «زوجتك» یا«زوجك» فرمایا ، کہنے لگا میرے پاس ایک اور ہے ۔ فرمایا ” اپنے خادم پر صدقہ کر ۔ “ کہنے لگا میرے پاس ایک اور ہے ۔ فرمایا ” تو اس کے متعلق بہتر جانتا ہے ۔ “ ( کہ کہاں اور کس پر خرچ کرنا ہے ) ۔ 1۔اپنے آپ پر اوراپنے عزیزوں پر خرچ کرنے کو نبی کریم ﷺنے صدقہ سے تعبیر فرمایا ہے۔یعنی حسن نیت کی بنا پر ان لازمی اخراجات پر بھی انسان اللہ کے ہاں صدقے کاساثواب پاتا ہے۔2۔اوراس ترتیب میں اپنی جان کو اولیت اور اہمیت دی گئی ہے۔کیونکہ انسان کی اپنی صحت عمدہ اور قویٰ بحال ہوں گے۔تودوسروں کے لئے بھی کوئی محنت مشقت کرسکے گا۔3۔اہل خانہ کو بھی اشارہ ہے۔کہ کسب و مشقت کی بنا پر شوہر اور باپ کو اولیت اوراولویت حاصل ہے۔4۔اور یہی حکم اس خاتون کا ہوگا۔جس کے کندھوں پر گھر کا یا بچوں کا خرچہ آن پڑا ہو۔