Book - حدیث 1688

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ الْمَرْأَةِ تَتَصَدَّقُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا صحیح موقوف حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَوَّارٍ الْمِصْرِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ عَنْ عَطَاءٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ فِي الْمَرْأَةِ تَصَدَّقُ مِنْ بَيْتِ زَوْجِهَا قَالَ لَا إِلَّا مِنْ قُوتِهَا وَالْأَجْرُ بَيْنَهُمَا وَلَا يَحِلُّ لَهَا أَنْ تَصَدَّقَ مِنْ مَالِ زَوْجِهَا إِلَّا بِإِذْنِهِ قَالَ أَبُو دَاوُد هَذَا يُضَعِّفُ حَدِيثَ هَمَّامٍ

ترجمہ Book - حدیث 1688

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: بیوی کا ثواب ، جو اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ دے سیدنا ابوہریرہ ؓ ( سے پوچھا گیا کہ ) کیا عورت اپنے شوہر کے گھر سے صدقہ دے ( یا نہ دے ) ؟ انہوں نے کیا نہیں ، اپنے حصے کے خرچ سے دے سکتی ہے ، ( جو شوہر نے اسے دیا ہو ۔ ) اور اجر ان دونوں کے مابین ہو گا ۔ اور اس کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کے مال سے اس کی اجازت کے بغیر صدقہ کرے ۔ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ سیدنا ابوہریرہ ؓ کا یہ فتویٰ گویا سابقہ حدیث ہمام کی تضعیف ہے ۔ صاحب عون المعبود لکھتے ہیں۔ کہ امام ابودائود رحمۃ اللہ علیہ کایہ آخری مقولہ اکثر نسخوں میں نہیں ہے۔بلکہ کچھ میں ہے۔جبکہ مذکورہ بالا حدیث ہمام بن منبہ بالکل عمدہ صحیح حدیث ہے۔اسے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے روایت کیا ہے۔(صحیح البخاری النفقات حدیث 5360 ۔وصحیح مسلم الذکاۃ حدیث 1026) اس حدیث کے ہوتے ہوئے ان کا اپنا فتویٰ (موقوف روایت) مرفوع صحیح حدیث کو کیونکر ضعیف کرسکتاہے۔ویسے مذکورہ حدیث اور ان کے اس فتوے میں توفیق وتطبیق بھی ممکن ہے۔ کہ بیوی کو شوہر کی صریح اجازت کے بغیر عرف سے بڑھ کر صدقہ کرنا حلال نہیں کیونکہ اس گھریلو اخراجات کا نظام متاثر ہوتا ہے۔اس لئے اس پر گناہ ہوگا اور مرفوع روایت کے مطابق ۔۔۔عدم اجازت کی صورت میں آدھا ملےگا بشرط یہ کہ معروف حد کے اندر اندر ہو۔