Book - حدیث 1670

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ الْمَسْأَلَةِ فِي الْمَسَاجِدِ ضعيف وهو صحيح دون قصة السائل م حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بَكْرٍ السَّهْمِيُّ حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ مِنْكُمْ أَحَدٌ أَطْعَمَ الْيَوْمَ مِسْكِينًا فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دَخَلْتُ الْمَسْجِدَ فَإِذَا أَنَا بِسَائِلٍ يَسْأَلُ فَوَجَدْتُ كِسْرَةَ خُبْزٍ فِي يَدِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ فَأَخَذْتُهَا مِنْهُ فَدَفَعْتُهَا إِلَيْهِ

ترجمہ Book - حدیث 1670

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: مساجد میں سوال کرنا ؟ سیدنا عبدالرحمٰن بن ابی بکر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے پوچھا ” کیا تم میں کوئی ہے جس نے آج کسی مسکین کو کھانا کھلایا ہو ؟ “ تو ابوبکر ؓ نے جواب دیا میں مسجد میں داخل ہو رہا تھا تو میں نے ایک سائل کو سوال کرتے ہوئے دیکھا ، میں نے ( اپنے صاحبزادے ) عبدالرحمٰن کے ہاتھ میں روٹی کا ایک ٹکڑا پایا ، تو وہ میں نے اس سے لے کر اس سائل کو دے دیا ۔ یہ روایت اس سند کے ساتھ ضعیف ہے۔ اس لئے سائل والا قصہ صحیح ہے۔ نہ اس سے مسئلۃ الباب کا اثبات یا اس کی نفی ہی ہوتی ہے۔تاہم دوسرے دلائل سے مسجد میں دینی ضرورت کےلئے یا ضرورت مندوں کےلئے سوال کرنا ثابت ہے۔البتہ یہ روایت ایک دوسرے انداز سے صحیح مسلم میں آئی ہے۔ اس میں ہے رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین سے پوچھا آج تم میں سے کس نے روزہ رکھا ہے؟حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے (رکھا ہے۔)آپﷺ نے فرمایا آج تم میں سے کس نے جنازے میں شرکت کی ہے۔؟حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے ۔آپ ﷺنے پوچھا تم میں سے آج کس نے مسکین کوکھاناکھلایا ہے۔ ؟حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے۔ آپﷺ نے پوچھا پھر تم میں سے آج کس نے کسی بیمار کے مزاج پرسی کی ہے۔؟حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا میں نے۔ پس رسول اللہ ﷺنے فرمایا جس میں یہ خوبیاں جمع ہوں گی وہ ضرور جنتی ہے۔ (صحیح مسلم الذکواۃ حدیث 1028)