Book - حدیث 1652

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ الصَّدَقَةِ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ صحیح حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ أَخْبَرَنَا أَبِي عَنْ خَالِدِ بْنِ قَيْسٍ عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَةً فَقَالَ لَوْلَا أَنِّي أَخَافُ أَنْ تَكُونَ صَدَقَةً لَأَكَلْتُهَا قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَاهُ هِشَامٌ عَنْ قَتَادَةَ هَكَذَا

ترجمہ Book - حدیث 1652

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: بنی ہاشم کو صدقہ لینا دینا کیسا ہے ؟ سیدنا انس ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ( کسی راستے میں ) ایک کھجور پائی ، تو فرمایا ” اگر مجھے یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ یہ صدقے کی ہو گی تو میں اسے کھا لیتا ۔ “ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ اسے ہشام نے قتادہ سے اسی طرح روایت کیا ہے ۔ 1۔طعام کی اہانت نہیں کرنی چاہیے۔ اگر اسے کیفیت میں پایا جائے تو اُٹھا لینا چاہیے۔اور اسے کھا لینا ہی اس کا صحیح استعمال ہے۔مشکوک اشیاء سے پرہیز لازم ہے۔2۔امام ابودائود رحمۃ اللہ علیہ کے قول سے اس طرف اشارہ ہے کہ اس سے پہلے والی حدیث حماد میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا فہم زکر ہوا ہے۔ کہ نبی ﷺ صدقے کے اندیشے سے کوئی کھجور نہ اُٹھاتے تھے۔ مگر ہشام اور خالد بن قیس کی روایت میں نبی ﷺ کا اپنا قول زکرہوا ہے۔ہشام کی حدیث صحیح مسلم میں روایت ہوئی ہے۔(صحیح مسلم ۔الزکواۃ حدیث 1071 ) (عون المعبود)