Book - حدیث 1650

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ الصَّدَقَةِ عَلَى بَنِي هَاشِمٍ صحیح حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ ابْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي رَافِعٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ رَجُلًا عَلَى الصَّدَقَةِ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَقَالَ لِأَبِي رَافِعٍ اصْحَبْنِي فَإِنَّكَ تُصِيبُ مِنْهَا قَالَ حَتَّى آتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْأَلَهُ فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ فَقَالَ مَوْلَى الْقَوْمِ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَإِنَّا لَا تَحِلُّ لَنَا الصَّدَقَةُ

ترجمہ Book - حدیث 1650

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: بنی ہاشم کو صدقہ لینا دینا کیسا ہے ؟ ابن ابی رافع سیدنا ابورافع ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے بنی مخزوم کے ایک شخص کو صدقات کے لیے مقرر کیا ، اس نے ابورافع سے کہا : میرے ساتھ چلو ، تمہیں بھی اس سے حصہ ملے گا ۔ اس نے کہا : پہلے میں نبی کریم ﷺ کے پاس سے ہو آؤں اور آپ ﷺ سے پوچھ لوں ، چنانچہ وہ آپ ﷺ کی خدمت میں آیا اور آپ ﷺ سے پوچھا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا ” قوم کا مولیٰ ( آزاد شدہ غلام ) انہی میں سے ہوتا ہے اور ہمارے لیے صدقہ حلال نہیں ہے ۔ “ 1۔نبی ﷺ اور آپ کی آل کےلئے صدقات حلال نہیں ہیں۔اور اس میں بنو ہاشم اور بنو مطلب آتے ہیں۔آپ نے اپنے موالی کو بھی اسی حکم میں شامل فرمایا ہے۔حتیٰ کہ انہیں ایسی ملازمت کی بھی اجازت نہیں دی۔جس میں صدقہ کامال ملتا ہو خواہ بالواسطہ ہی سہی۔2۔صحابہ کرامرضوان اللہ عنہم اجمعین حلال وحرام کے معاملے میں از حد حساس تھے۔حضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی کریم ﷺ سے اجازت لئے بغیر صدقات کےلئے عامل بننا پسند نہیں کیا۔