Book - حدیث 1648

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ فِي الِاسْتِعْفَافِ شاذة صحيح ق ورواية المتعففة حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ عَنْ مَالِكٍ عَنْ نَافِعٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ وَهُوَ يَذْكُرُ الصَّدَقَةَ وَالتَّعَفُّفَ مِنْهَا وَالْمَسْأَلَةَ الْيَدُ الْعُلْيَا خَيْرٌ مِنْ الْيَدِ السُّفْلَى وَالْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ وَالسُّفْلَى السَّائِلَةُ قَالَ أَبُو دَاوُد اخْتُلِفَ عَلَى أَيُّوبَ عَنْ نَافِعٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ قَالَ عَبْدُ الْوَارِثِ الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُتَعَفِّفَةُ و قَالَ أَكْثَرُهُمْ عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أَيُّوبَ الْيَدُ الْعُلْيَا الْمُنْفِقَةُ و قَالَ وَاحِدٌ عَنْ حَمَّادٍ الْمُتَعَفِّفَةُ

ترجمہ Book - حدیث 1648

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: سوال سے بچنے کی فضیلت سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے برسر منبر فرمایا جب کہ آپ ﷺ صدقہ اور اس سے بچنے ( کی فضیلت ) اور سوال کرنے ( کی مذمت ) بیان کر رہے تھے ، فرمایا ” اوپر والا ہاتھ ، نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے ۔ اوپر والا ہاتھ خرچ کرنے والا ہوتا ہے اور نیچے والا ہاتھ سوالی ۔ “ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ اس روایت میں ایوب پر ، جو نافع سے روایت کرتے ہیں ، اختلاف کیا گیا ہے ۔ عبدالوارث نے کہا : اوپر والے ہاتھ سے مراد «المتعففة» ہے یعنی جو سوال نہ کرے ۔ جب کہ بواسطہ حماد بن زید ، ایوب سے روایت کرنے والے اکثر حضرات اوپر والے ہاتھ سے مراد « المنفقة» یعنی خرچ کرنے والا بیان کرتے ہیں ۔ حماد سے صرف ایک راوی ( مسدد بن مسرہد ) نے «المتعففة» ذکر کیا ہے ۔ نیچے والے ہاتھ کو اعلیٰ اور افضل قراردینا بعض صوفیاء کی خود ساختہ بات ہے۔بقول ان کے اس کی تفصیل یہ ہے کہ چونکہ غنی پر اپنے مال کا حق (صدقہ) دینا واجب ہوتا ہے۔اور جب تک وہ دے نہ چکے اور کوئی لے نہ لے وہ اپنے اس حق لازم سے بُری نہیں ہوسکتا۔چونکہ لینے والا اس کا مال لے کر گویا احسان کرتا اور اسے اس کے حق واجب سے بری کرتا ہے۔ اس لئے وہ افضل ہوا مگر بقول علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ یہ بات فطرت عرف اور شرع سب لہاظ سے باطل ہے۔الف)خود رسول اللہ ﷺنے دینے والے ہاتھ کو افضل فرمایا ہے۔جو اس رائے کے باطل ہونے کی صریح دلیل ہے۔(ب) آپ نے اسے نیچے والے ہاتھ کے بالمقابل خیر اور افضل فرمایا ہے۔ اور بلاشبہ دینا افضل ہے۔ نہ کہ لینا۔(ج)عرف ومعنی کے اعتبار سے بھی دینے والے کا ہاتھ سائل کے مقابلے میں افضل ہوا کرتا ہے۔(د)عطا ایک صفت مدح ہے۔جو انسان کے غنا کرم اور احسان کی دلیل ہے۔اس کے بالمقابل لینا ایک صفت نقص وعیب ہے جو فقر وحاجت مندی کا مظہر ہوتی ہے۔لہذا ان لوگوں کا یہ معنی کہ لینے والا ہاتھ افضل ہوتا ہے۔کسی طرح بھی معقول نہیں ہے۔