Book - حدیث 1631

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ مَنْ يُعْطِي مِنْ الصَّدَقَةِ وَحَدُّ الْغِنَى صحیح حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ قَالَا حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي صَالِحٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْسَ الْمِسْكِينُ الَّذِي تَرُدُّهُ التَّمْرَةُ وَالتَّمْرَتَانِ وَالْأَكْلَةُ وَالْأَكْلَتَانِ وَلَكِنَّ الْمِسْكِينَ الَّذِي لَا يَسْأَلُ النَّاسَ شَيْئًا وَلَا يَفْطِنُونَ بِهِ فَيُعْطُونَهُ

ترجمہ Book - حدیث 1631

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: صدقہ کسے دیا جائے ؟ اور غنی ہونے کی حد کیا ہے ؟ سیدنا ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” مسکین وہ نہیں جسے ایک کھجور ، دو کھجور اور ایک لقمہ یا دو لقمے پلٹا دیں بلکہ مسکین وہ ہے جو لوگوں سے مانگتا نہ ہو اور نہ لوگوں کو اس کے بارے میں اندازہ ہو کہ اسے دیں ۔ “ 1۔فقیر اور مسکین دونوں ہی نادار ہوتے ہیں۔ مگر مسکین کی ٹوہ لگانی پڑتی ہے۔مسکینی وہی محمود ہے۔جس میں سوال سے عفت اور صبروقناعت پائی جائے۔3۔اس حدیث سے دیگر احادیث میں یہ ارشاد ہے کہ ایسے مساکین سے تعاون زیادہ افضل ہے۔