Book - حدیث 1630

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ مَنْ يُعْطِي مِنْ الصَّدَقَةِ وَحَدُّ الْغِنَى ضعیف حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ بْنِ غَانِمٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادٍ أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيَّ أَنَّهُ سَمِعَ زِيَادَ بْنَ الْحَارِثِ الصُّدَائِيَّ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَايَعْتُهُ فَذَكَرَ حَدِيثًا طَوِيلًا قَالَ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ أَعْطِنِي مِنْ الصَّدَقَةِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى لَمْ يَرْضَ بِحُكْمِ نَبِيٍّ وَلَا غَيْرِهِ فِي الصَّدَقَاتِ حَتَّى حَكَمَ فِيهَا هُوَ فَجَزَّأَهَا ثَمَانِيَةَ أَجْزَاءٍ فَإِنْ كُنْتَ مِنْ تِلْكَ الْأَجْزَاءِ أَعْطَيْتُكَ حَقَّكَ

ترجمہ Book - حدیث 1630

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: صدقہ کسے دیا جائے ؟ اور غنی ہونے کی حد کیا ہے ؟ سیدنا زیاد بن حارث صدائی ؓ کا بیان ہے کہ میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ ﷺ سے بیعت کی اور لمبی حدیث بیان کی اور کہا : پھر ایک شخص آپ ﷺ کی خدمت میں آیا اور کہنے لگا کہ مجھے صدقہ میں سے کچھ دیجئیے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” اللہ عزوجل نے صدقات کی تقسیم کا مسئلہ نبی یا کسی دوسرے کی پسند پر نہیں چھوڑا بلکہ اس کے بارے میں خود ہی فیصلہ فرمایا ہے ۔ اور انہیں آٹھ قسم کے افراد میں تقسیم فر دیا ہے ۔ اگر تم ان میں سے ہو تو میں تمہیں تمہارا حق دیے دیتا ہوں ۔ “ یہ روایت سندا ضعیف ہے۔ لیکن اس میں جو بات بیان ہوئی ہے۔ وہ صحیح ہے کیونکہ اللہ عزوجل نے زکواۃ کےمستحقین کا زکر سورۃ توبہ کی اس آیت میں کیا ہے۔ ( إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّـهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّـهِ ۗ وَاللَّـهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ)(التوبہ ۔60) اور اس مسئلے میں اہل علم کے دو قول معروف ہیں۔ ایک یہ کہ صدقہ کے مال کو آیت کریمہ میں مذکور آٹھواں اصناف میں تقسیم کرناواجب ہے۔ یہ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور چنددیگر علماء سے مروی ہے۔اور دوسرے قول کے مطابق امام مالک اور امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان سے قبل کئی ایک صحابہ رضوان اللہ عنہم اجمعین کا کہناہے۔ کہ کسی ایک یا چند لوگوں کو دے دینا بھی کافی اور صحیح ہے۔ جیسے کہ امام المسلمین اور صاحب صدقہ کی ترجیح ہو اور یہی موقف راحج ہے۔(تفسیر شوکانی)