Book - حدیث 1626

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ مَنْ يُعْطِي مِنْ الصَّدَقَةِ وَحَدُّ الْغِنَى صحیح حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَأَلَ وَلَهُ مَا يُغْنِيهِ جَاءَتْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ خُمُوشٌ أَوْ خُدُوشٌ أَوْ كُدُوحٌ فِي وَجْهِهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْغِنَى قَالَ خَمْسُونَ دِرْهَمًا أَوْ قِيمَتُهَا مِنْ الذَّهَبِ قَالَ يَحْيَى فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُثْمَانَ لِسُفْيَانَ حِفْظِي أَنَّ شُعْبَةَ لَا يَرْوِي عَنْ حَكِيمِ بْنِ جُبَيْرٍ فَقَالَ سُفْيَانُ حَدَّثَنَاهُ زُبَيْدٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ

ترجمہ Book - حدیث 1626

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: صدقہ کسے دیا جائے ؟ اور غنی ہونے کی حد کیا ہے ؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود ؓ کا بیان ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جو شخص مانگے ، حالانکہ اس کے پاس بقدر کفایت موجود ہو ، تو قیامت کے روز وہ آئے گا اور اس کا چہرہ زخمی ہو گا یا اس پر خراشیں ہوں گی یا نوچا ہوا ہو گا ۔ “ کہا گیا : اے اللہ کے رسول ! غنی ہونے کی کیا مقدار ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” پچاس درہم یا اس قیمت کا سونا ۔ “ یحییٰ نے کہا : عبداللہ بن عثمان نے سفیان سے کہا : مجھے تو ایسے یاد ہے کہ شعبہ ، حکیم بن جبیر سے روایت نہیں کرتا ہے ، تو سفیان نے جواب دیا کہ ہمیں یہ روایت زبید نے محمد بن عبدالرحمٰن بن یزید سے بیان کی ہے ۔ 1۔(خموش اور خدوش) کے معنی ہیں ناخنوں سے کسی لوہے وغیرہ سے چہرہ چھیلنا اور زخمی کرلینا (کدوح)کا مفہوم ہے وہ ذخم اور آثار جو چھیلنے پر نمایاں ہوں۔ اور دانتوں سے کاٹنے کو بھی (کدوح ) کہتے ہیں۔2۔شرعی حق کے بغیر سوال کرنا اتنا بڑا عیب ہے کہ انسان میدان محشر میں تمام مخلوق کے سامنے ذلیل ورسوا ہو کر حاضر ہوگا۔3۔ایک درہم موجودہ وزن کے اعتبار سے 2975یا 306 گرام چاندی کے مساوی ہوتا ہے۔اس اعتبار سے پچاس درہم تقریبا 13 تولہ چاندی کے برابر ہوں گے۔اس کی موجودہ قیمت ہر وقت معلوم کی جاسکتی ہے۔