Book - حدیث 1620

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ مَنْ رَوَى نِصْفَ صَاعٍ مِنْ قَمْحٍ صحیح حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الدَّرَابِجِرْدِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا بَكْرٌ هُوَ ابْنُ وَائِلٍ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَوْ قَالَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ح و حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ عَنْ بَكْرٍ الْكُوفِيِّ قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى هُوَ بَكْرُ بْنُ وَائِلِ بْنِ دَاوُدَ أَنَّ الزُّهْرِيَّ حَدَّثَهُمْ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ ثَعْلَبَةَ بْنِ صُعَيْرٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَطِيبًا فَأَمَرَ بِصَدَقَةِ الْفِطْرِ صَاعِ تَمْرٍ أَوْ صَاعِ شَعِيرٍ عَنْ كُلِّ رَأْسٍ زَادَ عَلِيٌّ فِي حَدِيثِهِ أَوْ صَاعِ بُرٍّ أَوْ قَمْحٍ بَيْنَ اثْنَيْنِ ثُمَّ اتَّفَقَا عَنْ الصَّغِيرِ وَالْكَبِيرِ وَالْحُرِّ وَالْعَبْد۔۔۔۔۔

ترجمہ Book - حدیث 1620

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: ان حضرات کی دلیل جو گندم کا آدھا صاع بیان کرتے ہیں جناب عبداللہ بن ثعلبہ بن ابی صعیر اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ خطبے کے لیے کھڑے ہوئے تو آپ ﷺ نے صدقہ فطر کا حکم ارشاد فرمایا کہ ہر فرد کی طرف سے ایک صاع کھجور یا ایک صاع جو دیا جائے ۔ علی کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ یا دو افراد کی طرف سے ایک صاع گندم کا دیا جائے اس حصے سے بعد کی روایت میں ( علی بن حسن اور محمد بن یحییٰ نیشاپوری ) دونوں متفق ہیں کہ چھوٹے ، بڑے ، آزاد اور غلام کی طرف سے دیا جائے ۔ سنن دارقطنی میں ہے۔ (ان رسول الله صلي الله عليه وسلم قام خطيبا فامر بصدقه الفطر عن الصغير الكبير والحر والعبد صاعا من تمر او تمامامن شعير عن كل واهد او عن كل راس او صاع قمح)(کتاب الذکواۃ الفطر 147/2حدیث 2090) رسول اللہ ﷺ خطبہ دینے کےلئے کھڑے ہوئے تو آپﷺنے صدقہ فطر کاحکم دیا۔ہرچھوٹے بڑے آذاد غلام کی طرف سے کھجور یا جو کا ایک ایک صاع دیاجائے یا ایک صاع گندم کا۔