Book - حدیث 1580

كِتَابُ الزَّكَاةِ بَابُ فِي زَكَاةِ السَّائِمَةِ حسن حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي لَيْلَى الْكِنْدِيِّ عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ قَالَ أَتَانَا مُصَدِّقُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ وَقَرَأْتُ فِي عَهْدِهِ لَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُفْتَرِقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ وَلَمْ يَذْكُرْ رَاضِعَ لَبَنٍ

ترجمہ Book - حدیث 1580

کتاب: زکوۃ کے احکام و مسائل باب: جنگل میں چرنے والے جانوروں کی زکوٰۃ سوید بن غفلہ ؓ کا بیان ہے کہ نبی کریم ﷺ کا تحصیلدار زکوٰۃ ہمارے ہاں آیا ۔ میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور اس کے وثیقے میں پڑھا ” زکوٰۃ کے خوف سے جدا جدا رہنے والے جانوروں کو جمع نہ کیا جائے اور نہ اکٹھے مال کو علیحدہ علیحدہ کیا جائے ۔ “ اس روایت میں «راضع لبن» ” یعنی دودھ والے جانور یا دودھ پیتے بچوں “ کا ذکر نہیں ہے ۔ امام ابوداؤد ؓ فرماتے ہیں کہ «لا تجمع » ” تم جمع نہ کرو “ اور «لا يجمع » ” جمع نہ کیے جائیں “ کا ایک ہی حکم ہے ۔ (1)حسب احوال حکومت کے کارندے سے اس کی شناخت اوراصل حکومتی فرمان طلب کر لینے میں کوئی حرج نہیں ۔ (2)امام ابو داؤد ﷫ کے آخری جملے [لاتجمع ]میں عامل کو تنبیہ ہے کہ علیحدہ علیحدہ جانوروں کو جمع نہ کرنا ........اور [لایجمع ] (صیغہ غائب مجہول )میں صاحب زکوۃ اور عامل دونوں کو تنبیہ ہے۔