Book - حدیث 158

كِتَابُ الطَّهَارَةِ بَابُ التَّوْقِيتِ فِي الْمَسْحِ ضعیف حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ قَطَنٍ عَنْ أُبَيِّ بْنِ عِمَارَةَ قَالَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ وَكَانَ قَدْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْقِبْلَتَيْنِ أَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ نَعَمْ قَالَ يَوْمًا قَالَ يَوْمًا قَالَ وَيَوْمَيْنِ قَالَ وَيَوْمَيْنِ قَالَ وَثَلَاثَةً قَالَ نَعَمْ وَمَا شِئْتَ قَالَ أَبُو دَاوُد رَوَاهُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ الْمِصْرِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسِيٍّ عَنْ أُبَيِّ بْنِ عِمَارَةَ قَالَ فِيهِ حَتَّى بَلَغَ سَبْعًا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَعَمْ وَمَا بَدَا لَكَ قَالَ أَبُو دَاوُد وَقَدْ اخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِهِ وَلَيْسَ هُوَ بِالْقَوِيِّ وَرَوَاهُ ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ وَيَحْيَى بْنُ إِسْحَقَ السَّيْلَحِينِيُّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَيَّوبَ وَقَدْ اخْتُلِفَ فِي إِسْنَادِهِ

ترجمہ Book - حدیث 158

کتاب: طہارت کے مسائل باب: مسح کے لیے مدت کا بیان سیدنا ابی بن عمارہ ؓ جن کے بارے میں یحییٰ بن ایوب کا بیان ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی معیت میں دونوں قبلوں کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی ہے ۔ ان سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ! کیا میں موزوں پر مسح کر لیا کروں ؟ فرمایا ” ہاں ۔ “ انہوں نے کہا ( کیا ) ایک دن ؟ آپ ﷺ نے فرمایا ” ( ہاں ) ایک دن ۔ “ انہوں نے کہا : کیا دو دن ( بھی ؟ ) فرمایا ” ہاں دو دن ( بھی ) ۔ “ کہا : کیا تین دن ( بھی ؟ ) فرمایا ” ہاں ! اور جو تو چاہے ۔ “ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ اس روایت کو ابن ابی مریم مصری نے ( بسند ) «عن يحيى بن أيوب عن عبد الرحمن بن رزين عن محمد بن يزيد بن أبي زياد عن عبادة بن نسى عن أبى بن عمارة» سے روایت کیا ہے ۔ اس میں ہے کہ ( دنوں کا اضافہ ) سات دنوں تک پہنچا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ” جو تیری سمجھ میں آئے ۔ “ امام ابوداؤد ؓ کہتے ہیں کہ اس کی اسناد میں اختلاف ہے اور یحییٰ بن ایوب قوی نہیں ہے ۔ اس حدیث کو ابن ابی مریم اور یحییٰ بن اسحاق سیلحینی اور یحییٰ بن ایوب سے روایت کیا ہے اور اس کی اسناد میں اختلاف کیا گیا ہے ۔ فوائد و مسائل: (1) مقیم اپنے موزوں پر ایک دن رات اور مسافر تین دن تین رات تک مسح کر سکتا ہے جیسا کہ حدیث 157 میں ہے ۔(2) مسح کی ابتدا حدث کے بعد پہلے مسح سے شمار کی جائے گی۔ (3) ابی بن عمارہ رضی اللہ عنہ والی روایت جس میں تین دن سے زیادہ کا ذکر ہے، ضعیف ہے ۔ امام احمد بن حنبل اور امام بخاری رحمہم اللہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔(عون المعبود) شیخ البانی رحمہ اللہ نےبھی اس کی تضعیف کی ہے۔